ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا آغا روحی نے ملک کے موجودہ حالات پر کیا تشویش کا اظہار

مولانا آغا روحی نے اپنی ملی و سماجی ذمہ داریوں کے پیش نظر بہت خاموشی سے پس پردہ رہتے ہوئے مضافات و دیہات کے غربت زدہ علاقوں میں ان اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے جو حیاتِ انسانی کی ضامن ہیں۔

  • Share this:
مولانا آغا روحی نے ملک کے موجودہ حالات پر کیا تشویش کا اظہار
مولانا آغا روحی نے ملک کے موجودہ حالات پر کیا تشویش کا اظہار

لکھنئو۔ اپنی عالمانہ بصیرتوں اور سنجیدہ سیاسی و سماجی شعور  کے حوالے سے ممتاز شناخت رکھنے والے معروف عالم دین، روح الملت مولانا سید ناصر سعید عبقاتی عرف آغا روحی نے ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ارباب اقتدار اور ملی و مذہبی رہنماؤں نے مدبرانہ فیصلے کیے ہوتے تو آج ملک کی صورت حال قدرِ مختلف ہوتی۔ مولانا آغا روحی کہتے ہیں کہ ہر چند یہ وقت سیاسی رہنماؤں اور افسران پر تنقید کے لئے مناسب نہیں ہے لیکن حقائق سے چشم پوشی اور خاموشی بھی گویا پریشان حال لوگوں کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ ہمارے سماج کے لاکھوں مزدوروں، مجبوروں اور بے روزگاروں کو جس اذیت سے گزرنا پڑ رہا ہے اس نے صاف کردیا ہے کہ ہمارے لیڈروں کے قول و عمل میں کتنا تضاد ہے۔ بسوں کے انتظار میں بے بس مزدوروں کے آبلے انہیں اپنے اپنے گھروں تک بھلے ہی لے جائیں یا نہ لے جائیں لیکن یہ لہو لہان قافلے ملک کو کس منزل کی طرف لے جارہے ہیں یہ ظاہر ہوچکا ہے۔


واضح رہے کہ مولانا آغا روحی نے اپنی ملی و سماجی ذمہ داریوں کے پیش نظر بہت خاموشی سے پس پردہ رہتے ہوئے مضافات و دیہات کے غربت زدہ علاقوں میں ان اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے جو حیاتِ انسانی کی ضامن ہیں۔ پریشر گروپ آف مائنارٹیز کے صدر سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ آج ملک و قوم کو حکومتوں کے اشارے پر کام کرنے والے ملت فروشوں کی نہیں بلکہ روح الملت جیسے ان دانشوروں اور اور عالموں کی ضرورت ہے جو سماجی بہبود کے باب میں خود بھی تعاون کرتے ہیں اور ارباب اقتدار کے ناپاک منصوبوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مولانا آغا روحی نے کورونا کے سبب پریشان ہوئے بے سہارا لوگوں کی امداد کے لیے سماجی کارکنان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے اور ریاست ومرکز کے اہم لیڈروں سے مطالبات بھی کیے ہیں۔




مولانا آغا روحی کہتے ہیں کہ کچھ افسران اور لیڈروں کے ضمیر پتھر ہو چکےہیں۔ انہوں نے وبا کے دور میں بھی اپنے ذاتی مفاد و انفرادی تشخص اور ناپاک منصوبوں کی تکمیل کے لئے ہی کام کیا ہے جبکہ راجناتھ سنگھ سمیت کئی اہم لیڈر وں نے ہمارے عوامی مطالبات پر سنجیدہ اور نتیجہ خیز رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے۔ مولانا آغا روحی نے ان  نام نہاد مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھتے ہوئے اس المناک دور میں بھی مسلکی اور نظریاتی اختلاف کو فوقیت دی ہے۔ مولانا نے خود غرض لیڈروں سے اپنے منصبی فرائض ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکیوں کا کام خطوط اور امانتوں  کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔ لوگوں کے منی آرڈر غائب و غصب  کرنے کا نہیں ، روح الملت نے مولوی حضرات سے بھی گزارش کی ہے  کہ موجودہ وقت مسلکی اور مکتبی بنیادوں پر اختلاف کا نہیں بلکہ اتحاد و اشتراک کے ساتھ ملک اور عوام کو مصیبتوں سے بچانے کا ہے۔
First published: May 26, 2020 12:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading