ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ وعلی گڑھ کے طلباء پر پولس بربریت پر مولانا ارشدمدنی نے کہا- کسی تحریک کو طاقت سےکچلا نہیں جاسکتا

جمعیۃ علماء ہند کے صدرنےسوال کیا کہ کیا ایک جمہوری ملک میں اب احتجاج کرنا بھی جرم ہے؟ اگرایسا ہےتوپھران لوگوں کوجواب اقتدار میں ہیں یہ اعلان کردینا چاہئےکہ ملک میں اب کسی طرح کا پر امن احتجاج بھی نہیں ہوسکتا۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جامعہ وعلی گڑھ کے طلباء پر پولس بربریت پر مولانا ارشدمدنی نے کہا- کسی تحریک کو طاقت سےکچلا نہیں جاسکتا
مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ چونکہ محکمہ صحت نے ہدایت کی ہےکہ کورونا کی وبا کو روکنےکے لئے سوشل ڈیسٹنسنگ ہی واحد موثرحل ہے۔ فائل فوٹو

نئی دہلی:  گزشتہ شب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء وطالبات کے ساتھ دہلی پولس کے وحشیانہ سلوک کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نےآج اپنےایک بیان میں کہا کہ ہم تشدد کےخلاف ہیں خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، لیکن قانون کی دہائی دے کراورامن وامان قائم کرنےکی آڑمیں دہلی پولس نے جامعہ کیمپس کے اندرگھس کرنہتے طلباء وطالبات کے ساتھ جوکیا وہ ظلم وجبرہےاورہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ رہا سوال یہ کہ احتجاج کے دوران تشدد کیوں ہوااوراس کے پیچھےکون ہے؟ اس کی آزادانہ اورمنصفانہ تحقیق ہونی چاہئے۔


مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ جامعہ کے طلباء شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پچھلے کئی روزسے پرامن احتجاج کررہے تھےاورپولس اپنی عادت کےمطابق ان کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کررہی تھی، اس وقت طلباء نےقانون اپنےہاتھ میں کیوں نہیں لیا؟ تب کسی طرح کا کوئی تشدد کیوں نہیں ہوا؟ یہ وہ سوال ہے، جس کا دہلی پولس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، تشدد کےتعلق سےسوشل میڈیا پرکچھ ایسے ویڈیو وائرل ہوئے ہیں، جواس سچائی سے ازخود پردہ اٹھادیتے ہیں کہ کچھ دوسرے لوگ بسوں میں آگ لگارہےہیں اورپولس وہاں موجودہے، آخریہ کون لوگ ہیں؟ یہ طلباء تو ہرگزنہیں ہیں، اس کا پتہ لگایا جانا بہت ضروری ہے۔ جامعہ کی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ بھی پولس نے ظالمانہ سلوک کیا ہے وہاں بھی یونیورسٹی کیمپس کے اندرگھس کر انہوں نے طلباء کو بے رحمی سے زدوکوب کیا ہے ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔


جمعیۃعلماء ہند کے صدرنےسوال کیا کہ کیا ایک جمہوری ملک میں اب احتجاج کرنا بھی جرم ہے؟ اگرایسا ہےتوپھران لوگوں کوجواب اقتدارمیں ہیں یہ اعلان کردینا چاہئےکہ ملک میں اب کسی طرح کا پرامن احتجاج بھی نہیں ہوسکتا، جمعیۃعلماء ہند قانون کی حکمرانی کی قائل ہے اوراس بات کے سخت خلاف ہےکہ کوئی شخص قانون ہاتھ میں لے، لیکن جامعہ ملیہ اسلامیہ اورعلی گڑھ میں پولس نے جو یکطرفہ کارروائی کی وہ ظلم ہےاورہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ جامعہ کیمپس میں پولس کسی اجازت کے بغیرداخل ہوئی جس کا اعتراف وہاں کے پراکٹر نے بھی کیا ہے، طلباء کے رہائشی کیمپس میں داخل ہونےکا گیٹ توڑدیا گیا اوراس وقت جو ہندومسلم طلباء وطالبات اپنے کمروں میں موجودتھے، انہیں انتہائی بے رحمی سے مارا گیا آخرکون ساقانون پولس کواس بات کی اجازت دیتا ہےکہ ہاسٹل اورلائبریری میں پناہ لینے والےنہتے طلباء وطالبات پر وہ اس طرح ظلم ڈھائے اگر تشددہوا ہے تو اس کی منصفانہ جانچ ہونی چاہئے اور جولوگ خطاوارپائے جائیں انہیں سزاملنی چاہئے۔

First published: Dec 16, 2019 05:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading