உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میوات اور غازی آباد میں اقلیتوں پر حملوں پر مولانا ارشد مدنی نے تشویش کا اظہار کیا 

    میوات اور غازی آباد میں اقلیتوں پر حملوں پر مولانا ارشد مدنی نے تشویش کا اظہار کیا

    میوات اور غازی آباد میں اقلیتوں پر حملوں پر مولانا ارشد مدنی نے تشویش کا اظہار کیا

    صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مذہبی منافرت ملک کو ترقی نہیں تباہی کے راستہ پر لے جارہی ہے اور مذہب کے نام پر ملک بھر میں جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے، اس سے سماجی طور پر نفرت کی خلیج مزید گہری ہوتی جارہی ہے اور ایک بار پھر خوف ودہشت کا ماحول تیار ہو رہا ہے ۔

    • Share this:
    نئی دہلی : حال ہی میں ہریانہ کے میوات اور دہلی سے متصل غازی آباد کے لونی میں اور ملک کے بعض دوسرے مقامات پر ماب لنچنگ اور مساجد کی مبینہ بے حرمتی کے افسوسناک واقعات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مذہبی منافرت ملک کو ترقی نہیں تباہی کے راستہ پر لے جارہی ہے اور مذہب کے نام پر ملک بھر میں جو خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے، اس سے سماجی طور پر نفرت کی خلیج مزید گہری ہوتی جارہی ہے اور ایک بار پھر خوف ودہشت کا ماحول تیار ہو رہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے جب کورونا کی دوسری لہر انسانی جانوں کو نگل رہی تھی تو لوگ مذہب سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے ، ہندو مسلم ، سکھ ، عیسائی سب ایک ساتھ آکر کورونا متاثرین کا تعاون اور مدد کر رہے تھے ، تب یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جو کام ہمارے حکمراں اور سیاستداں نہیں کر سکے اس کو کورونا کے زیر اثر پیدا ہوئے انسانی ہمدردی کے جذبہ نے پوراکر دکھایا ۔

    مولانا مدنی نے کہا کہ اب یہ سچائی پوری طرح اجاگر ہوگئی ہے کہ جب بھی کوئی الیکشن قریب ہوتاہے، اچانک مذہی منافرت کو ہوا دیا جانے لگتا ہے ۔ جبکہ ملک ایک بڑے اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، روزگار ختم ہورہے ہیں، تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک پوری نسل بیکاری کا شکار ہے، ملک کی شرح نمومنفی ہندسہ تک جاپہنچی ہے، ہم اکیسویں صدی میں بھلے ہی جی رہے ہیں مگر ملک کے شہری تمام تر ترقی کے دعووں کے باوجود اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ کورونا کی وبانے ترقی کی بھیانک سچائی سامنے پیش کرادی ہے، جب ہم لوگوں کو آکسیجن تک مہیا نہ کراسکے اس کی کمی سے ہزاروں افراد دم توڑ گئے بہت سے لوگوں کو اسپتال میں بیڈ نہیں ملا ، اگر مل بھی گیا تو انہیں ضرورت کی دوائیں نہیں مل سکیں۔

    مولانا مدنی نے کہاکہ اب اگراس کے بعدبھی ہمارا ضمیر بیدار نہیں ہوتا، اور ہم اسی طرح مذہبی شدت پسندی اور منافرت کا کھیل کھیلتے رہے، اور کروڑوں لوگوں کے دلوں کو مایوسی کا شکار بناتے رہے تو اس کو ملک کی بدقسمتی کے سوا کس چیز سے تعبیر کیا جائے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: