உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مولانا کلیم صدیقی کی تبدیلی مذہب معاملہ میں گرفتاری پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال ، کہی یہ بات

    مولانا کلیم صدیقی کی تبدیلی مذہب معاملہ میں گرفتاری پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال ، کہی یہ بات

    مولانا کلیم صدیقی کی تبدیلی مذہب معاملہ میں گرفتاری پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال ، کہی یہ بات

    مولانا کلیم صدیقی کی یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتاری پر صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی مذہب کے الزام میں مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو جس طرح سے میڈیا پیش کررہا ہے ، وہ قابل مذمت اورباعث تسویش ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    نئی دہلی : مولانا کلیم صدیقی کی یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتاری پر صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی مذہب کے الزام میں مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو جس طرح سے میڈیا پیش کررہا ہے ، وہ قابل مذمت اورباعث تسویش ہے ۔ اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے معاملہ میں میڈیا کا جج بن جانا اور انہیں مجرم بناکر پیش کرنا میڈیا کی جرنلزم کے پیشہ کے ساتھ بددیانتی ہے ۔ میڈیا کے ٹرائل سے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوتی ہے ۔ نیز انصاف کی جدوجہد کرنے والوں پر عرصہ حیات تنگ ہوجاتاہے ۔ مولانا کلیم کو غیر قانونی طریقہ سے تبدیلی مذہب کرانے غیر ممالک سے فنڈنگ جیسے کئی سنگین الزامات کے تحت گرفتارکیا گیا ہے ۔

    مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ یہ سارے الزامات سراسر بے بنیاداورغلط ہیں ۔ کیونکہ کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جاسکتاہے، عقیدہ جاننے کا نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے، اس کا تعلق انسان کے دل سے ہے، جو کسی کے بس میں نہیں ہوتاہے ۔ رہی بات فنڈنگ کی تو مولانا کلیم صدیقی ہریانہ اور پنچاب کے ان مختلف علاقوں میں جہاں مسلمان بہت کم ہیں اور دین سے بالکل ناواقف ہیں اور اپنے آپ کو صرف مسلمان سمجھتے ہیں ان جیسے لوگوں کو دین اسلام سکھلانے کیلئے مدارس قائم کررکھے ہیں وہاں وہ انہیں مدارس پر پیسہ خرچ کرتے نہ کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کیلئے اور اگر بزورزبردستی لالچ دیکر مسلمان بنایا جاسکتا تھا تو خلیج اور خاص کر سعودی عرب میں پچاسوں لاکھ غیر مسلم کام کررہے ہیں ان کو مسلمان بنادیا جاتا ، لیکن ایسانہیں ہے کیونکہ اسلام جاننے کا نہیں بلکہ دل سے ماننے کا نام ہے ۔

    مولانا مدنی نے مزید کہا کہ موصوف کی گرفتاری نے ایک بارپھر کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، اور اس گرفتاری کو ہندو مسلم منافرت کو فروغ دینے کی مذموم کوشش قراردیا ہے ۔ مولامدنی نے کہا کہ تمام انصاف پسند لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ پرستوں کی اس مذموم کوششوں کی بھرپورمخالفت کریں ، کیونکہ فرقہ پرستی ملک کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: