ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

 بابری مسجد ملکیت مقدمہ: قانون کے مطابق ہی آئے گا عدالت کا فیصلہ، ہمیں عدالت پرمکمل بھروسہ: مولانا ارشدمدنی

جمعیۃعلماء ہند کے صدرنے معاملہ کی سماعت جنوری تک کی ملتوی کئے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیرضروری بیان بازی کرنے والوں کا معززعدالت کوازخودنوٹس لینا چاہئے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
 بابری مسجد ملکیت مقدمہ: قانون کے مطابق ہی آئے گا عدالت کا فیصلہ، ہمیں عدالت پرمکمل بھروسہ: مولانا ارشدمدنی
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے سپریم کورٹ میں بابری مسجد-رام مندر معاملے میں ہوئی سماعت جنوری تک ملتوی کئے جانے کی قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کا انتہائی اہم اورحساس معاملہ ہے۔


انہوں نے آج کی قانونی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے آنے کہ بعد ان غیر ضروری بیانات کا سلسلہ اب بندہوجائے گا جوایک طرف جہاں عدلیہ اورقانون کو چیلنچ کرنے والے تھے وہی اس طرح کے بیانات سے ایک طبقے کی دل آزاری بھی ہورہی تھی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ قانون کی بنیادپرہی فیصلہ آئے گا اورہم ایسے ہرفیصلہ کے خیرمقدم کریں گے۔


سید ارشد مدنی نے اس بات پرتشویش کا اظہارکیا کہ کچھ لوگ عدالت سے باہراس معاملہ میں غیرضروری ہی نہیں بلکہ جارحانہ بیان بازی کررہے ہیں، یہاں تک کے بعض ذمہ دارلوگ بھی میڈیا پرآکروہیں مندربنانے کی بات کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے توپھراس طرح کی بیان بازی اوراشتعال انگیزی کا کیا جواز ہوسکتا ہے؟ اس لئے ہم گزارش کریں گے کہ معززعدالت ازخود اس کا نوٹس لے اورایسے لوگوں کو متنبہ کرے، جن کے اول جلول بیانات سے امن واتحاد کی فضاء خراب ہوجانے اورمعاشرے میں کشیدگی وانتشار پھیل جانے کا شدید خطرہ ہو۔


مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیان دینے والوں کی غالبا منشاء یہی ہے کہ ملک میں امن واتحاد کی فضاء خراب ہواورسماجی طورپرفرقہ وارانہ صف بندی قائم ہوجائے انہوں نے مزید کہا کہ ایک محب وطن شہری کی طرح مسلمان صبروتحمل کے ساتھ عدالت کے فیصلہ کاانتظارکررہے ہیں کیونکہ انہیں عدلیہ پرمکمل اعتماد ہےاوراس بات کا یقین بھی کہ معززعدالت دوسرے معاملوں کی طرح اس اہم مقدمہ میں بھی ثبوت وشواہداورقانون کی بنیادپر ہی فیصلہ دے گی۔
اس سے قبل چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے آج ملک کے انتہائی اہم اورحساس بابری مسجد ملکیت مقدمہ کی سماعت آئندہ جنوری تک کے لئے ملتوی کردی۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اورجسٹس کے ایم جوزف کی بینچ کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو جمعیۃعلماء ہند کے لیڈمیٹرسول پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 (محمد صدیق جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش) کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ راجورام چندرن، سینئرایڈوکیٹ برنداگرووراوروکیل آن رکارڈ اعجازمقبول پیروی کے لئے پیش ہوئے۔

سماعت کا آغاز ہوتے ہی بینچ نے مقدمہ کی سماعت آئندہ جنوری تک کے لئے ملتوی کرنے کا فیصلہ دیا اوریہ بھی کہا کہ جنوری 2019کے پہلے ہفتہ میں سماعت اس بات پرہوگی کہ مقدمہ کو کس بینچ کے حوالہ کیا جائے اور اس کیلئے کون سی تاریخ مقررکی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:    بابری مسجد معاملہ پرسپریم کورٹ کافیصلہ: ملک قانون اورآئین سے چلے گا کسی کی مرضی سے نہیں: اسد الدین اویسی کا انتباہ

یہ بھی پڑھیں:    ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ نے جنوری تک کے لئے سماعت ملتوی کی

یہ بھی پڑھیں:     صرف ہندوہی نہیں مسلمان بھی چاہتے ہیں رام مندرکی تعمیرہو: مرکزی وزیراشونی چوبے کا شوشہ

یہ بھی پڑھیں:    قانون بنا کررام مندرکی تعمیرکو یقینی بنائیں ورنہ تلاش کرلیں گے دوسرا وزیراعظم: پروین توگڑیا کی دھمکی

یہ بھی پڑھیں:         رام مندرمعاملے پرسپریم کورٹ کو سماعت میں تیزی لانی چاہئے: روی شنکرپرساد
First published: Oct 29, 2018 06:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading