ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی کی بھی مذمت کی جائے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جولوگ مذہب کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کیلے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہو سکتے اور ہمیں ہرسطح پر ایسے لوگوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہئے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 03, 2018 05:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی کی بھی مذمت کی جائے: مولانا ارشد مدنی
مولانا مدنی نے شام میں اب تک کےاقوام متحدہ کےکردارکو بہت افسوسناک قرار دیا اورکہا کہ جن مقاصد کو لیکر اس عالمی ادارے کی تشکیل ہوئی تھی وہ فوت ہو رہے ہیں۔

ویانا۔ مذہب کے نام پر جہاں کسی بھی طرح کا تشدد قابل قبول نہیں وہیں ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ مختلف سربراہان مملکت دل پذیر تقریریں تو کرتے ہیں مگر اپنی کہی ہوئی باتوں پر عام طور پر عمل نہیں کرتے۔ اس تمہید کے ساتھ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جولوگ مذہب کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کیلے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہو سکتے اور ہمیں ہرسطح پر ایسے لوگوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہئے ۔ یہاں ’’کیسیڈ‘‘ کی سہ روزہ بین المذاہب کانفرنس سے فراغت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے مولانائے محترم نے کہا کہ اس وقت جب دنیا کے بیشتر ممالک بدامنی انتشاراور تشدد کا شکار ہیں ، کہیں نسلی تعصب ہے تو کہیں لسانی ، مذہبی تعصب کو ہوا دیکر انتشار وتفریق پیدا کی جارہی ہے ،ہمیں مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیاد پر دنیا کے تمام مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔


انہوں نے کہا کہ عصری منظر نامے میں سیاست دانوں میں نفرت کی تخم ریزی کرکے اقتدارحاصل کرنے کی ہوس شدید ترہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے پوری دنیامیں تعصب اور مذہبی تشدد میں غیر معمولی طورپر اضافہ ہوا ہے بعض حکمرانوں نے ڈراورخوف کی سیاست کو اپنا شعاربنا لیا ہے ۔ کیسڈکی بین المذاہب کانفرنس کی ستائش کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اس سے افہام وتفہیم کی راہیں کھلی ہیں ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے اس طرح ایک ساتھ آنے اور بات چیت کرنے سے بہت سی غلط فہمیوں کا نہ صرف ازالہ ہوگا بلکہ پوری دنیا میں اس کا ایک مثبت پیغام بھی جائے گا اور عالمی سطح پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان انشاء اللہ اتحاد واتفاق کی فضاء ہموار ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی طرح مذہبی شدت پسندی کی بھی مذمت کی جائے جس کے خلاف عالمی سطح پر اب تک کوئی مؤثر کوشش نہیں ہوئی ہے ۔ مولانا نے کہا ’’تاہم امید افزا بات یہ ہے کہ کیسڈ نے اس مسئلہ کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اوراس کے خاتمہ کے لئے مؤثر انداز میں پوری دنیا میں کام کررہی ہے‘‘ ۔


مولانا مدنی نے شام میں اب تک کےاقوام متحدہ کےکردارکو بہت افسوسناک قرار دیا اورکہا کہ جن مقاصد کو لیکر اس عالمی ادارے کی تشکیل ہوئی تھی وہ فوت ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں متعدد اہم قراردادیں منظور ہوئیں۔ تین اہم کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں، ایک مشرق وسطیٰ کے لئے ، دوسری یوروپ وامریکہ اور تیسری ایشیا کے امور کو دیکھنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔

First published: Mar 03, 2018 05:04 PM IST