ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسی بھی متبادل پر مسجد سے دستبردار نہیں ہوسکتے: مولانا ارشد مدنی کا اعلان

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نےکہا کہ بابری مسجد قانون اور عدل وانصاف کی نظرمیں ایک مسجد تھی اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی۔ چاہے اسے کوئی بھی شکل اور نام دے دیا جائے۔

  • Share this:
کسی بھی متبادل پر مسجد سے دستبردار نہیں ہوسکتے: مولانا ارشد مدنی کا اعلان
مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی: آج مرکزی حکومت کی جانب سے بابری مسجد کی متنازعہ اراضی پر رام مندر بنانےکےلئے ایک ٹرسٹ بنائےجانے پر اور یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کو 5 ایکٹر زمین دیئےجانے کے بیان پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نےکہا کہ بابری مسجد قانون اور عدل وانصاف کی نظرمیں ایک مسجد تھی اور آج بھی شرعی لحاظ سے مسجد ہے اور قیامت تک مسجد ہی رہے گی۔ چاہے اسےکوئی بھی شکل اور نام دے دیا جائے۔ اس لئےکہ کسی فرد اور جماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہےکہ کسی متبادل پرمسجد سے دستبردار ہو جائے۔

مولانا ارشد مدنی نےجاری ایک بیان میں مزید کہا کہ جمعیة علماءہند بابری مسجد حق ملکیت مقدمہ میں شروع سے ہی فریق اول رہی ہے اور اس نے یہ مقدمہ ملکیت کی بنیاد پر لڑا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں مسجدکے وجود کو تسلیم کیا۔ اس کے انہدام کو غیر قانونی قرار دیا، اس میں نماز پڑھنے کو تسلیم کیا، کھدائی کے ملبے میں مندر کے باقیات کی عدم موجودگی کوتسلیم کیا، لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ نے فیصلہ ہمارے خلاف سناتے ہوئے پوری زمین رام للا کو دے دی اور پھر معاوضے کے طور پر 5 ایکڑ زمین مسلمانوں کو دینے کا حکم صاد ر کیا۔ اس سلسلے میں ہم نے پہلےبھی کہا ہےکہ اورآج بھی کہتے ہیں کہ ہم ابھی بھی اس کو مسجد ہی مانتے ہیں اور مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے اور وہ وقف علی اللہ ہوتی ہے اور واقف کو بھی وقف کے بعدیہ اختیار نہیں رہ جاتا کہ اس کو واپس لے لے۔


جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی

رام مندر ٹرسٹ کا اعلان


اس سےقبل وزیر اعظم نریندر مودی نےآج کہا کہ حکومت نے اجودھیا میں رام جنم بھومی پرخوبصورت مندرکی تعمیرکےلئے ٹرسٹ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ نریندر مودی نےیہاں بدھ کو لوک سبھا کا اجلاس شروع ہونے پر یہ اطلاع دی۔ انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت نے ٹرسٹ کےقیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ٹرسٹ کا نام’ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر‘ ہوگا۔ اس میں سبھی پنتھوں کے لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نےبتایا کہ ان کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں یہ اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ سنی وقف بورڈکو بھی اس کے حصے کی زمین الاٹ کی جائے گی۔ ریاستی حکومت کو اس سلسلہ میں درخواست بھیج دی گئی ہے اور اس نے اس پر عمل کرنےکی رضامندی بھی ظاہر کی ہے۔ اس اعلان کے بعد حکمراں فریق کے ارکان نے میزیں تھپتھپا کر اس کا خیر مقدم کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا میں بولتے ہوئے

 

بابری مسجد کے ملبہ سے متعلق ظفریاب جیلانی کا بیان

دوسری جانب بابری مسجد ایکشن کمیٹی کےکنوینر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مجلس عاملہ کے رکن اور معروف وکیل ظفریاب جیلانی نے بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئےسپریم کورٹ میں درخواست دینےکا فیصلہ کرلیا ہے۔ حالانکہ ملبے کی حصولیابی سے متعلق فیصلے کی بات پہلے بھی کہی گئی تھی اور اس ضمن میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا موقف جاننےکےلئے بورڈ کے جنرل سکریٹری سے رابطہ بھی کیا تھا اور انہیں تحریری طور پر بھی مطلع کیاتھا۔ تاہم ابھی تک اس باب میں بورڈ کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔ صدر اورجنرل سکریٹری کی جانب سے کوئی منفی یا مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہاہے کہ وہ جلد ہی بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہاہے کہ وہ جلد ہی بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔


ظفریاب جیلانی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بورڈ کی جانب سے اس ضمن میں جلد ہی کوئی جواب نہیں آیا تو بابری مسجد ایکشن کمیٹی اپنے طور پر بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنےکےلئےسپریم کورٹ میں درخواست دے گی۔ جیلانی ملبہ حاصل کرنےکا جواز پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ شریعت کےاحکام کےمطابق مسجد کے ملبےکی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی مسجد کے ملبےکو کسی ناپاک جگہ ڈالا یا استعمال کیاجانا چاہئے۔ اسی پیش نظر ملبہ حاصل کرنےکی کوششوں کو یقینی بنایا جارہاہے، جس کے لئے معروف وکیلوں سے پہلے ہی مشورہ کیا جاچکاہے۔
First published: Feb 05, 2020 09:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading