ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جوانسانوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو : مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی

دہلی: اسلام دین امن وسعادت اور دین الفت ومحبت ہے۔ یہ احترام انسانیت ، آپسی میل جول اور بھائی چارہ کی تعلیم دیتا ہے ۔ خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبات کی آبیاری کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جو سب سے زیادہ انسانیت کی فلاح وبہبود اور حقوق کے تحفظ کے لیے جیتا مرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 29, 2015 10:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جوانسانوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو : مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی
دہلی: اسلام دین امن وسعادت اور دین الفت ومحبت ہے۔ یہ احترام انسانیت ، آپسی میل جول اور بھائی چارہ کی تعلیم دیتا ہے ۔ خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبات کی آبیاری کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جو سب سے زیادہ انسانیت کی فلاح وبہبود اور حقوق کے تحفظ کے لیے جیتا مرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا ۔

دہلی: اسلام دین امن وسعادت اور دین الفت ومحبت ہے۔ یہ احترام انسانیت ، آپسی میل جول اور بھائی چارہ کی تعلیم دیتا ہے ۔ خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبات کی آبیاری کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں سب سے بہتر مسلمان وہ ہے جو سب سے زیادہ انسانیت کی فلاح وبہبود اور حقوق کے تحفظ کے لیے جیتا مرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند نے کیا ۔


مولانا سلفی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام ’’خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی - اہمیت و ضرورت ‘‘کے عنوان پر کل یہاں منعقد قومی سمپوزیم میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ان گنت مخلوقات ہیں جن میں انسان سب سے بہتر مخلوق ہے۔ لیکن انسانوں میں بھی مسلمانوں کو سب سے بہتر انسان قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ وہ بلاتفریق رنگ ونسل اور قوم و ملت اور ملک و معاشرہ ساری انسانیت کا بھلا چاہنے اور فائدہ پہنچانے کے لیے برپا کئے گئے ہیں۔


ناظم عمومی نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بنو آدم کو ایک جسم سے پیدا کیا ہے اور سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور سب آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں۔ اگر کسی عضو میں درد ہوتا ہے تو سارا بدن درد و کرب محسوس کرتا ہے یہی کیفیت ہمارے ملک و معاشرے میں پیدا ہونی چاہئے کہ اگر ایک انسان پریشانی میں مبتلا ہو تو دوسرا انسان بھی اس کے درد کو محسوس کرے اور تڑ پ اُٹھے۔انہوں نے کہا کہ انسان کے جا ن ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت پر تقریباً تمام ادیان متفق ہیں۔


سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے ہندو دھرم کے معروف پنڈت ،ہندی رسالہ ایودھیا کی آواز کے ایڈیٹر یوگل کشور شاشتری جی نے خیر سگالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عنوان کے تحت سمپوزیم منعقد کرنے پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پرفتن ماحول میں جب کہ ملک کی فضا کو مکدر کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے ہمیں انتہائی انہماک کے ساتھ اس طرح کے پروگرام کرتے رہنے کی ضرور ت ہے تاکہ ملک کو توڑ نے والے شرپسند عناصر اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکیں۔


انہوں نے کہا کہ عدلیہ ، میڈیا اور دیگر دوسرے تمام محکموں میں سبھی مذاہب کی نمائندگی ضروری ہے۔یہ عدل و انصاف کے قیام کے لیے بھی ضروری ہے۔ آخر کیا بات ہے کہ پارلیامنٹ پر حملہ والے مقدمے میں اتنا جلد فیصلہ آجاتا ہے اور بابری مسجد کے انہدام میں شریک لوگ پوری آزادی سے دندناتے پھر رہے ہیں؟آخر کیا وجہ ہے کہ وقتا فوقتا دلتوں پر حملے ہوتے آرہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ عدلیہ کے فیصلے بھی متاثر کئے جارہے ہیں۔لہذا ہم پوری طرح سے یہ مہم چلانا چاہتے ہیں۔ عدلیہ میں بھی سبھی مذاہب کی برابر نمائندگی ہونی چاہئے۔


یوگل کشور جی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔وہ چند لوگوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گیا ہے۔ایک مسلم پکڑا جاتا ہے تو سبھی میڈیا والے آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں، لیکن مسلمانوں کی اچھائیوں کو کوئی بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔


آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ ہندوستان میں ایک لمبی مدت سے ہم سبھی دھرم کے لوگ مل جل کررہ رہے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پچھلے پندرہ بیس سالوں سے اس طرح کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ عالمی پیمانے پر جس طرح سے امریکہ مسلم ملکوں میں پائے جانے والے تیل اور دیگر خزانوں کو ہتھیانے کے لئے سیاست کررہا ہے ، اسی طرح ہمارے وطن عزیز میں بھی بعض سیاسی پارٹیاں سیاست کررہی ہیں، جو انتہائی گھناؤنی بات ہے ۔ نفرت کی سیاست بہت دنوں تک کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔


جماعت اسلامی ہندکے سکریٹری محمد احمد نے کہا کہ آج جبکہ کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے پیش نظر نفرت پھیلانے کی سیاست کررہے ہیں، ایسے وقت میں شانتی سے کام کرنے والوں کو دل سے مبارک باد۔شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی کے صدر مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے کہا کہ مسلمان ہمیشہ اپنے قرب و جوار میں آباد لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھتا ہے۔مذہب اور امن و آشتی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔


سمپوزیم کی صدارت مولانا جمیل احمد مدنی مفتی جمعیت اہل حدیث ہندنے کی اور نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے تمام مہمانان گرامی اور حاضرین کا استقبال کیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی، خیر سگالی ، امن وشانتی، آپسی میل جول کے فروغ اور ظلم وتشدد، فرقہ وارانہ منافرت اور دہشت گردی کے روک تھام میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی خدمات کا مختصرا ذکر کیا اور خیر سگالی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عنوان پر سمپوزیم کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی۔

First published: Dec 29, 2015 09:54 PM IST