ہوم » نیوز » No Category

دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ضروری: مولانا اصغرعلی سلفی

نئی دہلی ۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے۔ یہ انسانیت اور اخوت و بھائی چارہ کا پیغام دیتا ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Dec 16, 2015 12:47 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دہشت گردی اور سازشوں کا مقابلہ اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ضروری: مولانا اصغرعلی سلفی
نئی دہلی ۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے۔ یہ انسانیت اور اخوت و بھائی چارہ کا پیغام دیتا ہے۔

نئی دہلی ۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے۔ یہ انسانیت اور اخوت و بھائی چارہ کا پیغام دیتا ہے۔ اس میں ظلم و نابرابری ، تشدد، عدم رواداری اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یا گروہ ناحق کسی کی عزت و آبرو اور جان و مال پر دست درازی کرتا ہے ، حکومتوں اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے اور معصوم مردوں وعورتوں اور بچوں پر جان لیوا حملہ کرتا ہے تو یہ سراسر حرام اور غیر انسانی عمل ہے۔ اس کا مذہب اسلام سے کوئی لینادینانہیں ہے، خواہ وہ اسلام کا نام لے رہاہو اور مسلمانوں جیسا نام رکھتا ہو، جیسا کہ داعش وغیرہ کے سلسلے میں مشہور ہے۔ یہ سب سراسرغیر اسلامی اور اسلام کو بدنام کرنے والی ، مسلمانوں، مسلم ملکوں اور انسانیت کوتہہ وبالا کرنے والی دہشت گردانہ سازشیں ہیں ۔ نفرت انگیزی سے بچتے ہوئے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ امن وشانتی کا دور دورہ ہو’‘۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے گزشتہ روزصوبائی جمعیت اہل حدیث تلنگانہ کے زیر نگرانی اور شہری جمعیت اہل حدیث سکندر آباد و حیدر آباد کے زیر اہتمام لنگر حوض حید رآباد میں منعقد ایک سمپوزیم میں کیا۔


مولانا نے مزید کہا کہ داعش جیسی تنظیمیں جو انسانیت سوز حرکتیں کررہی ہیں اور جسے خلافت کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے ، یہ یقینا اسلام دشمن طاقتوں اور انسانیت کے قاتلوں کی گہری سازش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسی تمام تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور لائق مذمت ہیں۔ ان کی حمایت کرنا اور کسی حیثیت سے تعاون کرنا شرعا حرام ہے۔ امت مسلمہ کے باشعور افراد کا دینی واخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان خطرات سے دنیا کو آگاہ کریں اور ان کی تائید و تشجیع اور مادی و معنوی حمایت سے بچانے کی کوشش کریں۔


اس موقع پر منعقد پریس کانفرنس میں ناظم عمومی نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دہشت گردی کے سلسلہ میں واضح موقف رکھتی ہے اور شروع ہی سے ملک و معاشرہ میں امن وشانتی کے قیام کی کوشش اور دہشت گردی کی مذمت کرتی آرہی ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس بات کی اولیت حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے ۲۰۰۶ء میں دہشت گردی کے خلاف زبر دست آواز بلند کی اور اسے عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور قرار دیا۔ اسی طرح جب داعش نے اپنا دہشت گردانہ بال و پر پھیلانا شروع کیا تھا مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے انسانیت کے لیے اس کی خطرناکی کو محسوس کرتے ہوئے سب سے پہلے سمپوزیم کا انعقاد کر کے داعش و غیرہ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف پچاس علماء کے دستخط سے اجتماعی فتویٰ جاری کیا ۔ تب سے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کی ذیلی اکائیوں کے ذریعہ مہم جاری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ملک وملت اور انسانیت کے بہی خواہوں کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کو بانٹنے اور لڑانے کی ناپاک اور مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ دہشت گردی کا الزام خواہ کسی کی طرف سے ہو ہم اس کی پر زور تردید اور مذمت کرتے ہیں۔


واضح رہے کہ دہشت گردی مخالف یہ سمپوزیم پورے صوبہ سے آئے ہوئے ضلعی و شہری ذمہ داروں کے اہم تربیتی و تنظیمی اجتماع کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا جس میں صوبائی و ضلعی جمعیتوں کے ذمہ داران ووابستگان بھی موجود تھے۔


First published: Dec 16, 2015 12:47 PM IST