ہوم » نیوز » No Category

داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش کا نتیجہ : مولانا اصغرعلی

نئی دہلی۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے، اس میں تشدد ، دہشت گردی اور عدم رواداری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Nov 30, 2015 08:27 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اسلام دشمن طاقتوں کی گہری سازش کا نتیجہ : مولانا اصغرعلی
نئی دہلی۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے، اس میں تشدد ، دہشت گردی اور عدم رواداری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

نئی دہلی۔ ’’ اسلام دین امن و سلامتی ہے، اس میں تشدد ، دہشت گردی اور عدم رواداری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ وہ پر امن ملک و معاشرہ کے قیام کی وکالت  اور ہر طرح کی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرتا ہے ۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند دہشت گردی کے سلسلہ میں واضح موقف رکھتی ہے اور شروع ہی سے ملک و معاشرہ میں امن وشانتی کے قیام کی کوشش اور دہشت گردی کی مذمت کرتی آرہی ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس بات کی اولیت حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلے ۲۰۰۶ء میں دہشت گردی کے خلاف زبر دست آواز بلند کی اور اسے عصر حاضر کا سب سے بڑا ناسور قرار دیا۔ اسی طرح جب داعش نے اپنا دہشت گردانہ بال و پر پھیلانا شروع کیا تھا مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند نے انسانیت کے لیے اس کی خطرناکی کو محسوس کرتے ہوئے سب سے پہلے سمپوزیم کا انعقاد کر کے داعش و غیرہ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف پچاس علماء کے دستخط سے اجتماعی فتویٰ جاری کیا ۔ تب سے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور اس کی ذیلی اکائیوں کے ذریعہ مہم جاری ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ملک وملت اور انسانیت کی بہی خواہ جماعت جماعت اہل حدیث کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے جو کہ بلاشبہ قابل مذمت ہے ‘‘ ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے زیر اہتمام مرکزی مسجد اہل حدیث چار مینار بنگلورمیں دہشت گردی مخالف ایک روزہ کانفرنس بعنوان ’’اسلام کا پیغام امن انسانیت کے نام‘‘ سے لوٹنے پر میڈیا کے نام جاری ایک بیان میں کیا۔


انہوں نے کہا کہ بنگلور میں منعقد اس کانفرنس میں مقررین نے داعش ودیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف زبر دست احتجاج کیا اور اس کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ اسلامی نظام عدل کے اندر ہرگز اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک شخص کی غلطی کا انتقام دوسرے سے لیا جائے۔ داعش جیسی تنظیمیں جو انسانیت سوز حرکتیں کررہی ہیں ان کی خبر سن کر اور تصویریں دیکھ کر انسانیت چیخ اٹھتی ہے۔ یہ ظلم وتشدد ، قتل اور فتنہ و فساد ایسے اعمال ہیں جو انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی جائز نہیں ہوسکتے اور جسے خلافت کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے جو یقینا اسلام دشمن طاقتوں اور انسانیت کے قاتلوں کی گہری سازش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسی تمام تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور لائق مذمت ہیں ان کی حمایت کرنا اور کسی حیثیت سے تعاون کرنا شرعا حرام ہے۔ امت مسلمہ کے باشعور افراد کا دینی واخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان خطرات سے دنیا کو آگاہ کریں اور ان کی تائید و تشجیع اور مادی و معنوی حمایت سے بچانے کی کوشش کریں۔


اس موقع پر صدر اجلاس و مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے امیر مولانا عبدالوہاب جامعی ، ناظم جناب محمد اسلم خان، خازن جناب منصور احمد قریشی عرف دادو بھائی، جناب قاسم ا عجاز قریشی، مولانا اعجاز احمد ندوی اور صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے دیگر ذمہ داران اور تمل ناڈ و تلنگانہ کے بعض ذمہ داران وغیرہ کی موجودگی میں میڈیا سے بھی مشترکہ خطاب کیا اور کہاکہ آج دنیا بھر میں جو دہشت گردی اور ظلم وستم کے پہاڑ تو ڑے جارہے ہیں اس کی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کڑی مذمت کرتی ہے۔


مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد جن کا تعلق جماعت اہل حدیث سے تھا، نے ملک کی آزادی کے وقت بھی اس ملک کی تقسیم کی سب سے زیادہ مخالفت کی تھی۔ مولانا آزاد نے ملک کے مسلمانوں میں مسلکی اختلافات مٹانے اور ملت کے اتحاد کے لیے جو کام کئے وہ تاریخ کے صفحات میں درج ہیں۔ مغربی میڈیاصالح سلفی فکر اور امن وانسانیت کی علمبردار مملکت سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں عام کر رہا ہے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور بدگمان کرنے کی گہری سازش کررہی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ دہشت گردی کی جڑوں کو کاٹا جائے اوراصل مجرمین کے چہرے دنیا والوں کے سامنے لایا جائے۔


 کانفرنس میں بڑی تعداد میں بنگلور اور قرب و جوار کے اضلاع سے بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

First published: Nov 30, 2015 08:27 PM IST