ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شریعت میں مداخلت جمہوریت کے خلاف : مولانا اسرارالحق قاسمی

تین طلاق کے معاملے پرسپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعے داخل کیے گئے حلف نامے پرحیرت اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور دستور کے مطابق اس ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کواپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کاقانونی اور جمہوری حق ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 10, 2016 04:42 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شریعت میں مداخلت جمہوریت کے خلاف : مولانا اسرارالحق قاسمی
معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی : تین طلاق کے معاملے پرسپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعے داخل کیے گئے حلف نامے پرحیرت اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے ممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور دستور کے مطابق اس ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں کواپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کاقانونی اور جمہوری حق ہے،لہذااس میں کوئی بھی حکومت یاسیاسی جماعت مداخلت نہیں کرسکتی۔

اس پس منظرمیں بی جے پی حکومت کی جا نب سے تین طلاق کے مسئلے پر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف اپنی رائے ظاہرکرنابالکل غیر جمہوری اورغیر منصفانہ عمل ہے۔ انھوں نے کہاکہ طلاق یانکاح جیسے معاملات اسلامی شریعت میں طے کردیے گئے ہیں اور مسلمان اسی کے مطابق انھیں برتنے کے مکلف ہیں،اس کے خلاف خودوہ بھی نہیں کرسکتے توپھر کسی حکومت کویہ اختیار کیسے ہوسکتاہے کہ وہ اس میں تبدیلی کی وکالت کرے۔

مولاناقاسمی نے اس اندیشے کا اظہار کیاکہ ہونہ ہوتین طلاق کوحربہ بناکر حکومت ملک میں یکساں سول کوڈکے نفاذکی راہیں ہموارکرناچاہتی ہے،جوایک زمانے سے متنازع فیہ معاملہ ہے اورمسلمان کسی قیمت پراسے نہیں قبول کرسکتے۔

مولاناقاسمی نے کہاکہ بعض لوگوں کاکہناہے اورخود حکومت کاموقف بھی یہی ہے کہ تین طلاق مسلمانوں کی سماجی ترقی میں حائل ہے،یہ ایک حیرت انگیزبات ہے اورسراسرناعلمی یاتعصب پرمبنی ہے،سماجی اصلاحات کے اوربھی بہت شعبے ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے،تین طلاق کوبہانہ بناکراسلام کے طے کردہ اصول و احکام میں مداخلت کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟

مولانااسرارالحق نے کہاکہ مسلمانوں کی معاشرتی ترقی کے لیے اس وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ انھیں مین اسٹریم سے جوڑاجائے،ان کے درمیان تعلیم کے فروغ و استحکام پر توجہ دی جائے،لہذاحکومت اگر واقعتاً مسلمانوں کی ترقی اور خوشحالی چاہتی ہے تواسے ان شعبوں میں کام کرناچاہیے،طلاق کے مسئلے کواچھال کرسماجی اصلاح کادعویٰ کرنااصل موضوعات سے بھٹکانے اورگمراہ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

First published: Oct 10, 2016 04:35 PM IST