ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لوک سبھا میں تین طلاق بل کو رکوانے کی پوری کوشش کی تھی ، مگر موقع ہی نہیں دیا گیا : اسرارالحق قاسمی

راجیہ سبھا میں تین طلاق مخالف بل کو سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی اپوزیشن کی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے مولانا اسرار الحق قاسمی نےآج کہا کہ لوک سبھا میں بھی انہوں نے اس بل کو روکوانے اور بحث میں اس کی مخالفت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں اس کا موقع ہی نہیں دیاگیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 03, 2018 11:16 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لوک سبھا میں تین طلاق بل کو رکوانے کی پوری کوشش کی تھی ، مگر موقع ہی نہیں دیا گیا : اسرارالحق قاسمی
رحمن خان نے کہا کہ مولانا کا اچانک انتقال ملک اور ملت کیلئے بڑا خسارہ ہے۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں تین طلاق مخالف بل کو سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی اپوزیشن کی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے مولانا اسرار الحق قاسمی نےآج کہا کہ لوک سبھا میں بھی انہوں نے اس بل کو روکوانے اور بحث میں اس کی مخالفت کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں اس کا موقع ہی نہیں دیاگیا۔ یہاں یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کشن گنج سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مولانا قاسمی نے کہا کہ راجیہ سبھا میں یہ بل پاس نہ ہو اس کے لئے کوشش شروع کردی گئی ہے اور اس ضمن میں انہوں نے کانگریس صدر راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، ملک ارجن کھڑگے، جیوتی رادتیہ سندھیا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رکن مجید میمن، رکن لو ک سبھا سپریہ سولے، ترنمل کانگریس کے لیڈر احمد حسن عمران، ندیم الحق، سماج وادی پارٹی کے دھرمیندر یادو(رکن راجیہ سبھا)، سی پی ایم کے رکن راجیہ سبھا مسٹر سمپت اور رکن لوک سبھا محمد سلیم سے ملاقات کی اور اس بل کی خامیوں سے آگاہ کیا اور اسی کے ساتھ بل کے پس منظر میں مسلمانوں میں پائے جانے والے اضطراب سے بھی آگاہ کیا۔

مولانا نے بتایا کہ ’’ 28 دسمبر کو لوک سبھا میں تین طلاق سے متعلق جو بل پاس ہو امیں اس کا سخت مخالف ہوں کیونکہ یہ بل نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ شریعت اور خواتین کے مفادات کے بھی خلاف ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’لوک سبھا میں اس بل کے پاس ہونے کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف پہنچی اور میں چاہتا تھا کہ جب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش ہو تو اس کی تمام خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کے لئے اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیج دیا جائے‘‘۔

لوک سبھا میں بل کی پیشی اور منظوری کے پس منظر میں انہوں نے بتایا کہ بل جب پیش ہوہی گیا تو وہ اس کی مخالفت کی تیاری میں لگ گئے اور دیگر ممبران کو بھی آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ابھی میں بحث میں اپنا موقف رکھنےکے لئے اپنی باری کا انتظار کر ہی رہا تھا کہ پتہ چلا کہ پارٹی نے ان کا نام اسپیکر کے پاس بھیجا ہی نہیں‘‘۔مولانا نے بتا یا کہ ووٹنگ میں وہ مخالفانہ حصہ لینے کو تیار تھے لیکن اس سے پہلے کہ وہ رائے عامہ ہموار کر کے ایوان میں لوٹتے ووٹنگ ہو چکی تھی۔

First published: Jan 03, 2018 11:16 PM IST