ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سلفی مسلک پورے ہندوستان میں پھیلا رہا ہے دہشت گردی: مولانا بدرالدین اجمل، مذہبی مسلم رہنماوں کی تنقید کا سامنا

بی جے پی ممبرپارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے طلاق ثلاثہ بل پرسورۃ البقرہ کا حوالہ دیا تھا، جس کے جواب میں مولانا اجمل نے کہا کہ میں بتاوں گا کہ اسلام کے بارے میں کونسی کتاب پڑھیں، سلفی مسلک کا عقیدہ میں نہیں مانتا ہوں۔

  • Share this:
سلفی مسلک پورے ہندوستان میں پھیلا رہا ہے دہشت گردی: مولانا بدرالدین اجمل، مذہبی مسلم رہنماوں کی تنقید کا سامنا
ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل

آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے سربراہ اورلوک سبھا ممبرپارلیمنٹ بدرالدین اجمل کے لئے آج کا دن بہت اچھا نہیں رہا۔ ایک طرف انہوں نے آج  نامہ نگاروں کودھمکی دیتے ہوئے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا وہیں آج انہوں نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پربحث کے دوران مسلمانوں کی ایک جماعت کو دہشت گردی سے جوڑدیا۔ انہوں نے آج سلفی مسلک کے بارے میں کہا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ لوگ ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔


دراصل مولانا بدرالدین اجمل سے قبل بی جے پی ممبرپارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے قرآن اورکچھ اسلامی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے حنفی اورسلفی مسلک کی بات کی تھی۔ اس پرمولانا اجمل نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل شریعت میں مداخلت ہے، اس لئے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے میناکشی لیکھی کومتوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ہے، اس کو صرف 10 فیصد لوگ مانتے ہیں اوروہ اسلام میں مداخلت کرتے ہیں۔


مولانا بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہم سلفیوں کے ساتھ نہیں ہیں، ہم ان کے عقیدے کونہیں مانتے ہیں۔ کیونکہ حکومت ہند نے دہشت گرد قراردے دیا ہے۔ آج پورے ہندوستان میں سلفی مسلک  دہشت گردی کرارہا ہے، جوباربارثابت ہورہا ہے۔  میں اس بات کو تسلیم نہیں کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب میں آپ سے اکیلے میں ملاقات کروں گا توآپ کو بتاوں گا کہ آپ کو کونسی کتاب پڑھنی چاہئے۔  اس کے جواب میں میناکشی لیکھی نے کہا کہ آپ قرآن کی آیت بتادیجئے، اس پرمولانا اجمل نے کہا کہ میں اس پربھی ڈیبیٹ کے لئے تیارہوں۔


واضح رہے کہ مولانا بدرالدین اجمل نے آج ہی اس وقت نامہ نگاروں کودھمکی دیتے ہوئے نازیباالفاظ کا استعمال کیا۔ دراصل بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک نامہ نگار نے بی جے یا کانگریس سے اتحاد پران سے سوال پوچھ لیا تھا، اس پربھڑکتے ہوئے مولانا اجمل نامہ نگارکے ساتھ بدسلوکی کرنے لگے اورکہا 'میں تمہارا سرپھوڑدوں گا'۔ مولانا اجمل اس حرکت کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے نشانے پرآنے سے مسلسل بحث میں بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے بعد میں معافی مانگ لی اورکہا کہ وہ میڈیا کے لوگوں کا احترام کرتے ہیں۔

مولانا اجمل کا بیان ہرگز ہرگزدرست نہیں: مولانا وحیدالدین خان

مولانا وحید الدین خان نے نیوز18 سے ٹیلیفونک بات میں واضح طورپرکہا کہ سلفی مسلک ہرگزہرگزدہشت گرد نہیں ہے، یہ ان پرالزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کا اصل معاملہ (اطلاق مرتٰن ) ہے، جسے سلفی مسلک مانتا ہے۔ مولانا وحیدالدین خان نے کہا کہ ایک مسلک دیوبندی ہے اوردسرا سلفی مسلک ہے۔ ان کوکیس کو بگاڑکرکے پیش کرنا ہے۔ بحیثیت مسلک بات کرنی چاہئے، دہشت گردی سے جوڑنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ باقاعدہ اورصحیح مسلک یہی ہے۔

مولانا اجمل کا بیان انتہائی احمقانہ:  مفتی مکرم احمد

فتحپوری شاہجہانی جامع مسجد  کے امام ڈاکٹرمفتی مکرم احمد نے مولانا بدرالدین اجمل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی احمقانہ بیان ہے، میں انتہائی حیرت زدہ ہوں، کیونکہ وہ خود بھی عالم دین ہیں اوردارالعلوم دیوبند کے مجلس شوریٰ کے رکن ہیں، ایک عالم دین کسی بھی مسلک کے بارے میں اختلاف کی وجہ سے ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ مفتی مکرم احمد نے کہا کہ کوئی بھی مسلک متشدد یا دہشت گردی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ اختلافی مسئلہ شریعت کی بنیاد پرہوتا ہے، یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ کسی بھی مسلک یا مذہب میں کچھ لوگ خراب ہوسکتے ہیں، لیکن عوامی طورپر اس طرح کے بیانات سے مسلمان اور اسلام دونوں کی بدنامی ہوگی۔

سلفی مسلک عورتوں کا سب سے زیادہ ہمدرد: محمد رحمانی

سلفی مسلک کے معروف عالم دین مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں جب مسلمانوں کو طاقت کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں مولانا بدرالدین اجمل کا بیان مسلمانوں کوتقسیم کرنے والا ہے۔ سلفی مسلک دہشت گردی کا سب سے بڑا مخالف ہے اور دہشت گردی کی تمام صورتوں کے خلاف سب سے مناسب تربیت دینے کا اھل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلفی مسلک عورتوں کے ساتھ سب سے زیادہ رعایت کرتا ہے اورقرآن وحدیث کی روشنی میں طلاق کی مدت تین ماہ متعین کرتا ہے، اسے دہشت گرد قراردیا جارہا ہے اورجوطلاق طلاق طلاق کہہ کربیوی کو اک بارگی گھرسے نکال دیتے ہیں، وہ امن پسند ہیں؟ مولانا محمد رحمانی مدنی نے یہ بھی کہا حلالہ کے نام پرجولوگ کچھ بھی کرتے ہیں، ان کوامن پسند قراردیا جائے اورجوحلالہ کوحرام قراردے کرخواتین کو سب سے زیادہ تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان کو دہشت گرد بتایا جارہا ہے۔ ایسے افراد کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔

مولانا اجمل کا بیان غیرذمہ دارانہ: ڈاکٹرظفرالاسلام  خان

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام خان نے نیوز18 سے ٹیلیفونک بات چیت میں مولانا بدرالدین اجمل کے بیان کوغیرذمہ دارانہ اورغلط بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ 104 ہندوستانی مسلمان داعش کے ساتھ ملوث رہے ہیں، ان میں سے اکثرخلیج میں رہتے ہیں اوراس میں دوسرے مسلک کے لوگ بھی ہیں، اس لئے کسی بھی مسلک پراس طرح سے غیرذمہ دارانہ الزام لگانا ٹھیک نہیں ہے۔

مولانا اجمل کا بیان انتہائی غیرمناسب: ڈاکٹرتسلیم رحمانی

مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کےصدراورایس ڈی پی آئی کے قومی سکریٹری  ڈاکٹرتسلیم رحمانی نے کہا کہ مولانا بدرالدین اجمل کا یہ بیان انتہائی غیرمناسب ہے۔ کون مسلمان کیسا ہے، اس کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جن لیڈروں نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی، انہوں نے بہت بہتراندازمیں اپنی بات رکھی۔ تاہم مجھے ایسا لگتا ہے کہ مولانا بدرالدین اجمل کے پاس اس بل کے خلاف کوئی جوازنہیں تھا اوران کی کوئی تیاری نہیں تھی، اس لئے انہوں نے ایسی غیرذمہ دارانہ بات کہی۔

دراصل مولانا اجمل کی پیدائش ممبئی میں ہوئی تھی، لیکن انہوں نے تعلیم اترپردیش کے عالمی شہرت یافتہ دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی ہے۔ وہ 2006 ممبراسمبلی منتخب ہوئے۔ آسام اسمبلی میں ان کی پارٹی کے 13 ممبران اسمبلی ہیں۔ مولانا اجل کی پارٹی آسام کی سیاست میں تیسری سب سے بڑی پارٹی مانی جاتی ہے۔ سال 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں انہوں نے 14 سیٹوں پرامیدواراتارے تھے، جس میں سے تین سیٹوں پرجیت درج کی تھی۔
First published: Dec 27, 2018 10:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading