ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا بدرالدین اجمل نے تین طلاق سے متعلق مسلم پرسنل لاء کے موقف کی پر زورتائید کی

رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تین طلاق سے متعلق موقف کی پر زور حمایت کرتے ہوئے اسے قانونِ شرع کی سچی ترجمانی قرار دیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 05, 2016 03:55 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مولانا بدرالدین اجمل نے تین طلاق سے متعلق مسلم پرسنل لاء کے موقف کی پر زورتائید کی
رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تین طلاق سے متعلق موقف کی پر زور حمایت کرتے ہوئے اسے قانونِ شرع کی سچی ترجمانی قرار دیا ہے۔

نئی دہلی۔  آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تین طلاق سے متعلق موقف کی پر زور حمایت کرتے ہوئے اسے قانونِ شرع کی سچی ترجمانی قرار دیا ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسلم پرسنل لاء کی حمایت میں آگے آئیں۔ اس تعلق سے جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ لاء انسٹیٹوٹ قائم کرنے اور وکلاء کو اسلامی قوانین سے واقف کرانے کی سمت میں کی جانے والی کوشش کو وقت کی اہم ضرورت قرارد دیتے ہوئے انہوں نے مولانا محمود مدنی سمیت جمعیۃ کے تمام ذمہ داران کو مبارکباد دی ہے۔


مولانا نے مزید کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف بالکل صحیح ہے کہ مسلمانوں کے پرسنل جیسے مذہبی اور عائلی مسائل کا حل قرآنی اور اسلامی اصولوں پر کیا جائے گا کیوں کہ آئین ہند نے ہی مسلم پرسنل لاء کو عدالتوں کے دائرہ کارسے باہر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باوجودیکہ آئینِ ہند نے ہر مذہب کے ماننے والوں کو اس بات کی مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کر سکیں، کچھ لوگ ہیں جو مسلم پرسنل لاء کو آئینِ ہند سے متصادم قرار دینے کی کوشش کر کے غلط فہمی پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو مسلم پرسنل لاء کو ختم کرکے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لئے ماحول تیار کر رہے ہیں جو ممکن ہی نہیں ہے کیوں کہ جب ایک مذہب کے ماننے والے' ہندو کوڈ بل' پر عمل نہیں کر سکے اور وہ بری طرح ناکام ہو گیا تو بھلاا لگ الگ مذہب کے ماننے والوں پر یکساں سول کوڈ کیسے تھوپا جا سکتا ہے ۔


انہوں نے مزید کہا کہ بد قسمتی سے اپنے آپ کو دانشمند کہنے والے کچھ مسلمان جانے انجانے میں اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ تین طلاق اور چارشادیوں جیسے مسائل پر بے جا تبصرہ کرتے نہیں تھکتے۔ حالانکہ اسلام نے طلاق کو ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور بیک وقت تین طلاق کو تو مبغوض قرار دیا ہے لیکن جب طلاق دینا ناگزیر ہو جائے تو ایسے میں اسلام نے طلاق کو تین مر حلوں میں دینے کی اجازت دی ہے اور ہر ایک کے درمیان تقریبا ایک ماہ کا وقفہ ہے تاکہ فریقین کو اس بارے میں اچھی طرح سوچنے اور سمجھنے کا موقع مل سکے اور وہ اس رشتہ کو بچا لیں۔ اسی طرح اسلام نے عورتوں کو بھی یہ حق دیا ہے کہ اگر وہ اپنی ازدواجی زندگی میں خوش نہیں ہیں تو خلع کے ذریعہ وہ اس رشتہ کو ختم کر سکتی ہیں۔ البتہ اگر کسی نے بیک وقت تین طلاق دے دیا تو اس کا نفاذ ہوجا ئیگا اگرچہ اس نے ایک مبغوض عمل کیا ہے جس کا وبال اس پر ہوگا مگر اس پر احکام مرتب ہوں گے۔


مولانا نے مزید کہا کہ اسی طرح اسلام نے چار شادی کی اجازت دی ہے اسے ضروری نہیں قرار دیا ہے اور اگر غور کیا جائے تواس میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں جس کا اثر سماجی اورازدواجی زندگی پر ہوتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی دہائی دینے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ اسلام نے عورتوں کو جو مقام، مرتبہ اور عزت دی ہے اور ان کے حقوق کی جس طرح حفاظت کی ہے اس کی مثال کہیں اورملنا ناممکن ہے اس لئے یہ لوگ عورتوں کے تحفظ کا لیکچر دینے کی بجائے اسلامی اصولوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔

First published: Sep 05, 2016 03:55 PM IST