உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی تعلیمی حالت سے لگایا جاتا ہے:مولانا فضل الرحیم مجددی

    لکھنؤ۔  کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس قوم میں تعلیم کی شرح کیا ہے۔

    لکھنؤ۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس قوم میں تعلیم کی شرح کیا ہے۔

    لکھنؤ۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس قوم میں تعلیم کی شرح کیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔  کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس قوم میں تعلیم کی شرح کیا ہے۔ جس قوم میں تعلیم کی شرح جتنی زیادہ ہوگی وہ قوم اتنی ہی ترقی یافتہ ہوگی۔ یہ بات انٹگرل یونیورسٹی میں مشہور عالم دین اور جامعہ ہدایت جے پور کے ناظم مولانا فضل الرحیم مجددی نے یہاں ایک پرزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہی۔ مولانا مجددی نے کہاکہ مسلمان تعلیمی اعتبار سے سب سے پسماندہ قوم ہیں اس لئے وہ ترقی کے ہر میدان خواہ تعلیم ہو یا معاشی، یا سماجی ہو پچھڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات سچر کمیٹی نے بھی اجاگر کردی تھی ۔ انہوں نے سچر کمیٹی کو مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، سماجی حالت کے جائزہ کا سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں گریجویٹ طبقہ کی تعداد محض 3.6 فیصد ہے،سینئر سکینڈری طبقہ 4.53اور سیکنڈر طبقہ 10.96 فیصد ہے۔ جس کی وجہ سے وہ تمام شعبہ حیات میں پسماندگی کے شکار ہیں۔


      مولامجددی نے کہا کہ تمام دنیا میں یہ دستور ہے کہ جب بھی کوئی طبقہ پچھڑ جاتا ہے یا تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کا شکار ہوجاتا ہے تو وہاں کی حکومت اس کے لئے اسپیشل اسکیم لیکر آتی ہے تاکہ اس طبقہ کو سہارا دیکر زندگی کے دھارے میں دیگر طبقوں کے مساوی کھڑا کیا جاسکے۔کیوں کہ اگر کوئی طبقٰہ پچھڑ جاتا ہے تو پورا ملک پسماندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ لہذا اس ملک کو خوش حال بناناہے تو مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کئے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔


      یہ پروگرام وزارت فروغ انسانی وسائل کی طرف سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انٹگرل یونیورسٹی لکھنوکے اشتراک سے کیا ہے۔ اس میں مولانا فضل الرحیم مجددی کو ایک ماہر کے طور پر خصوصی پرزنٹیشن یش کرنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔مولانا نے پلاننگ کمیشن کے بارہویں پلان میں اقلیتی اسکیمیں شامل کرانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ اس پروگرام کے کوآرڈی نیٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر پرویز طالب ہیں۔انہوں نے کہاکہ مسلم بچے پرائمری اسکول میں بہت تیزی سے داخلہ لیتے ہیں لیکن ان کا ڈراپ آؤٹ بہت زیادہ ہوتا ہے اور گریجویٹ کی سطح آتے آتے یہ اعلی ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک اہم وجہ مسلمانوں کی مالی حالت بھی ہے۔ ان میں55 فیصد لوگ ایسے ہیں جو پانچ  روپے سے لیکر پانچ سو روپے تک یومیہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ 35فیصد لوگ ایسے ہیں جو پانچ سو روپے سے لیکر ایک ہزار روپے تک خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور محض دس فیصد لوگ ایسے ہیں جوایک ہزار سے زائد خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں اس آمدنی سے کسی مسلمان کا اعلی اور پیشہ وارانہ تعلیم میں بچوں کو داخلہ دلانا اور اس کا خرچ برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ اس میں سے دس فیصد ہی ہیں جو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلاسکتے ہیں۔ اس کے لئے مائنڈ سیٹ ہونا ضروری ہے۔


      مولانا  نے کہاکہ سابقہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے سچر کمیٹی کی روشنی میں مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور معاشرتی پسماندگی دور کرنے کیلئے متعدد اسکیمیں شروع کی تھیں تاکہ اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کیا جاسکے۔ اس میں مولانا آزاد نیشنل فیلوشب اسکالرشپ اسکیم شروع کی گئی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلباء کیلئے تھی۔ اس کے علاوہ پرائمری سے لیکر اعلی تعلیم تک اسکالرشپ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ لیکن اس میں سے صرف 40 فیصد بچوں۔ کو اسکالر شپ مل رہی ہے جب کہ 60 فیصد بچے محروم ہیں۔ اسی کے ساتھ مولانا نے یہ بھی کہا کہ اگر اس پر نگرانی جائے تو اس کے نتائج اچھے برآمد ہوتے ہیں۔ اس اسکالر شپ اسکیم کی نگرانی کی گئی تو 2007 میں جو ڈھائی ہزار کروڑ رقم اس مد میں خرچ کی گئی تھی 2014 میں بڑھ کر پانچ ہزار کروڑ سے زائد ہوگئی۔
      مولانا مجددی نے کہاکہ اس مسابقتی دور میں کوچنگ کی بہت اہمیت ہے اور اس کے لئے کافی پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ اس لئے اقلیتوں کے لئے حکومتی اسکیم میں کوچنگ کا پروگرام بھی شامل کیا گیا ہے۔ کوئی اقلیتی طبقہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کھول سکتا ہے اور حکومت سے فنڈ حاصل کرسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کم از کم 15 کوچنگ کرنے والے طلبہ کا متعلقہ کورس میں داخلہ ہوناضروری ہے۔

      First published: