ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا کلبِ جواد کا بیان، وسیم رضوی پر این ایس اے لگا کر ملک سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے

دہلی کی جامع مسجدپر وسیم رضوی کے خلاف مظاہرے میں مولانا کلب جواد بھی شامل ہوئے۔ مولانا کلب جواد نے نیوز ایٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وسیم رضوی پر این ایس اے لگا کر ملک سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے کو خارج کر دینا چاہئے۔

  • Share this:

دہلی جامع مسجد  (Jama Masjid) کے باہر نماز جمعہ کے بعدوسیم رضوی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔اس احتجاج میں شیعہ ۔سنی اور دیگر مکتبہ فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ساتھ ہی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف سخت کاروائی کرے۔  دہلی کی جامع مسجدپر وسیم رضوی کے خلاف مظاہرے میں مولانا کلب جواد بھی شامل ہوئے۔ مولانا کلب جواد نے نیوز ایٹین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وسیم رضوی پر این ایس اے لگا کر ملک سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ (supreme court of india) کو اس معاملے کو خارج کر دینا چاہئے۔


غور طلب ہے کہ قرآن سے 26 آیتیں ہٹانے سے متعلق وسیم رضوی (Waseem Rizvi) کی طرف سے سپریم کورٹ (Supreme Court) میں داخل عرضی کو لے کرمسلم طبقے میں زبردت ناراضگی دیکھنےکو مل رہی ہے۔ وسیم رضوی کا شعیہ اور سنی دونوں فرقے کے لوگ زبردست مخالفت کر رہے ہیں۔ اسی ضمن میں وسیم رضوی کا سرقلم کرنے والے کو 11 لاکھ روپئے کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، لکھنو میں شیعہ - سنی علمائے کرام نے وسیم رضوی کی مذمت کی اور مشترکہ پریس کانفرنس کرکے وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کرنے کا فتویٰ جاری کیا۔


ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فضل منان رحمانی ندوی نے کہا کہ وسیم رضوی اسرائیل کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مولانا ڈاکٹر کلب سبتین نوری نے کہا کہ وسیم رضوی کے کاموں کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ وسیم رضوی معاشرہ کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مسلم معاشرہ کو بدنام کیا ہے۔ وہ ہمارے سماج کا حصہ نہیں ہے۔ دونوں مولانا نے وسیم رضوی کو اسلام سے خارج اور مسلم معاشرہ سے بے دخل کرنے کا فتویٰ دیا۔


وسیم رضوی کا سر قلم کرنے والے کو 11 لاکھ کا انعام، مسلمانوں میں زبردست ناراضگی
وسیم رضوی کا سر قلم کرنے والے کو 11 لاکھ کا انعام، مسلمانوں میں زبردست ناراضگی


سرقلم کرنے والے کو انعام
مرادآباد بارایسوسی ایشن کے صدر امیرالحسن جعفری نے کہا کہ ہم وسیم رضوی کے عرضی کی مخالفت کرتے ہیں۔ قرآن مجید کے بارے میں غلط بیان بازی کرنے والوں کو ایسی سزا دینا کوئی جرم نہیں ہے۔ جعفری نے کہا کہ سرقلم کرنے والے کے لئے انعام کی رقم کا انتظام وہ چندہ لے کر کریں گے۔ ضرورت پڑی تو اپنے بچے کو بیچ دیں گے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 19, 2021 07:07 PM IST