உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اذان پر پابندی کی مانگ کا پورا معاملہ کیا ہے جانیں یہاں، مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہی یہ بڑی بات

    یہاں نہ مندر کے گھنٹی سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور نہ مسجد کی اذان سے کسی کو پریشانی: مولانا خالد رشید فرنگی محلی

    یہاں نہ مندر کے گھنٹی سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور نہ مسجد کی اذان سے کسی کو پریشانی: مولانا خالد رشید فرنگی محلی

    یہاں نہ مندر کے گھنٹی سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور نہ مسجد کی اذان سے کسی کو پریشانی ۔ یہ صرف معاملے کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گنگا جمنی تہذیب یہ ملک گہوارہ رہا ہے۔

    • Share this:
      لکھنؤ۔ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے الہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے مطالبے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اذان سے کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی ۔یہاں نہ مندر کے گھنٹی سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور نہ مسجد کی اذان سے کسی کو پریشانی ۔ یہ صرف معاملے کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گنگا جمنی تہذیب یہ ملک گہوارہ رہا ہے۔  دراصل ،نماز فجر کی اذان کو لیکر الہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے نیند میں خلل پڑنے کی بات کہی ہے۔ اس سلسلہ میں3 مارچ کو وائس چانسلر نے کارروائی کے لئے پریاگ راج کے ڈی ایم کو ایک خط لکھا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے خط میں کہا ہے کہ صبح ساڑھے 5 بجے ، انکے مکان کے قریب میں واقع مسجد میں لاؤڈ اسپیکر سے گونجنے والی اذان کی آواز سے انکی نیند میں خلل پڑرہاہے اور تمام تر کوششوں کے بعد بھی انہیں دوبارہ وہ نیند نہیں آتی ہے۔ اس کی وجہ سے ، انہیں دن بھر سر درد ہوتا ہے اور کام کاج بھی متاثر ہوتا ہے۔

      الہ آباد یونیورسٹی ( Allahabad University) کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو (VC Sangeeta Srivastava) کی جانب سے اذان کو لیکر ضلعی مجسٹریٹ سے کی گئی شکایت پر ردعمل کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ شیعہ مذہبی استاد مولانا سیف عباس نے وائس چانسلر کی طرف سے کی گئی شکایت پر کہا کہ صبح کا کیرتن بھی غلط ہونا چاہیے۔ انہوں نے وائس چانسلر سے اپنی شکایت واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔ مولانا سیف عباس نے بتایا کہ اذان میں دو سے تین منٹ لگتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ ہوسکتے ہیں۔ اگر وائس چانسلر نے صبح کی آرتی اور کیرتن کے بارے میں بھی شکایت کی ہوتی ، تو یہ مسئلہ کو سمجھا جاسکتاہے لیکن صرف اذان کے بارے میں شکایت نامہ دینا مناسب نہیں ہے۔ وہ بھی ایک یونیورسٹی میں ایک اعلی ٰعہد ہ پر فائز رہے کر شکایت کرنا غلط ہے۔ میری گذارش ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں۔

      وہیں سنی اسکالر مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ مساجد میں اذان ہوتی اور مندروں میں آرتی ہوتی ہے۔ شہر میں ایک بہت بڑا کمبھ میلا بھی ہوتاہے۔ جہاں سے وائس چانسلر کا تعلق ۔ پورے مہینے میں لاؤڈ اسپیکر کی آوازیں سنائی دیتی ہے۔ سڑکیں بھی بند ہوتی ہےلیکن کسی مسلمان نے کبھی بھی کسی کو بھی کوئی خط نہیں لکھا ہے۔ مولانا سفیان نظامی کا کہنا ہے کہ کنور یاترا نکالی جاتی ہے۔ ہولی آتی تو سڑکیں بند ہوجاتی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کا بھی استعمال ہوتاہےلیکن کسی بھی مسلمان نے اب تک کوئی اعتراض یا شکایت درج نہیں کروائی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔

      وی سی نے کمشنر ، آئی جی اور ایس ایس پی سمیت متعدد عہدیداروں کے مکتوب لکھاہے۔
      وی سی نے کمشنر ، آئی جی اور ایس ایس پی سمیت متعدد عہدیداروں کے مکتوب لکھاہے۔


      الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی (Allahabad Central University)کی وائس چانسلر نے اذان (Azaan)سے نیند میں خلل پڑنے کا معاملہ اٹھایاہے۔ اس سلسلہ میں وی سی ڈاکٹر سنگیتا سریواستو (Vice Chancellor Prof Sangeeta Srivastava)نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے شکایت کی ہے۔ وی سی نے کمشنر ، آئی جی اور ایس ایس پی سمیت متعدد عہدیداروں کے مکتوب لکھاہے۔ وائس چانسلر نے خط میں کہا کہ ہر صبح لاؤڈ اسپیکر آنے والی تیز آواز سننے کی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پڑرہاہے۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے آغاز پر ، پورے مہینے کے لئے روزانہ لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہوگا۔ اس وقت ،ان کی نیند میں مزید خلل پڑے گا ۔

      سنگیتا سریواستو نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کا بھی حوالہ دیا۔ اپنے خط میں انہوں نے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کیس میں الہ آبAاد ہائی کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلہ کا بھی ذکر کیاہے۔ توقع ہے کہ وائس چانسلر کے اس خط سے ہنگامہ برپا ہوگا۔ دوسری جانب ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھنو چندر گوسوامی نے کہا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق کارروائی کریں گے۔

      وی سی پروفیسر ڈاکٹر سنگیتا سریواستو
      وی سی پروفیسر ڈاکٹر سنگیتا سریواستو


      ہم آپ کو بتادیں کہ وی سی سنگیتا پریاگ راج کے پوش علاقے میں سیول لائنس میں رہتی ہے۔ ان کے گھر کے قریب ہی ایک مسجد ہے۔ وی سی سنگیتا سریواستو کے شوہر جسٹس وکرم ناتھ گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔سونو نگم نے بھی یہ معاملہ اٹھایاتھا۔یادر ہے کہ کہ بالی ووڈ گلوکار سونو نگم نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا ہے ۔ جس کے بعد انہیں کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کی وجہ سے نیند خراب ہوتی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: