ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق سے متعلق طاہر محمود کا بیان ملت میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی ایک سازش: خالد سیف اللہ رحمانی

نئی دہلی۔ سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے یہاں جاری ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کے سلسلہ میں معروف ماہر قانون ڈاکٹر طاہر محمود کا بیان افسوسناک اور نا قابل قبول ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 03, 2016 09:17 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق سے متعلق طاہر محمود کا بیان ملت میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی ایک سازش: خالد سیف اللہ رحمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری وترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے یہاں جاری ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کے سلسلہ میں معروف ماہر قانون ڈاکٹر طاہر محمود کا بیان افسوسناک اور نا قابل قبول ہے اور دراصل یہ ملت کے باہمی اختلاف رائے کو ابھارنے اور قانون شریعت میں عدالت کی مداخلت کی حوصلہ افزائی کی ایک سازش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہرگز یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ ایک ساتھ دی جانے والی تین طلاق ایک ہی طلاق ہوتی ہے،اگر قرآن مجید میں یہ حکم موجود ہوتا تو امت کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف رائے نہیں ہوتا،حالانکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ فقہاء اور محدثین کی غالب اکثریت کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار کی گئی ہیں۔


بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ تمام مسلم ممالک میں تین طلاق کے ایک ہونے کو تسلیم کرلیا گیا ہے،بلکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ سعودی عرب جس کو حرمین شریفین کی تولیت کا شرف حاصل ہے،وہاں اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے کمیشن قائم کیاگیا اوراس میں قرآن وحدیث کے دلائل،صحابہ کے فتاوی اور فقہاء کے اقوال کو سامنے رکھ کر یہی فیصلہ کیا گیا کہ اگرچہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہ ہے،لیکن اگر دے دی جائے تو واقع ہوجاتی ہے۔


اسی طرح عالم اسلام کے مؤقر ادارہ جامع ازھر مصر کا بھی یہی فتوی ہے،اس لئے ہمیں اس مسئلہ پر بحث کرنے کے بجائے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہوتی ہے یا تین؟اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ سماج میں شعور پیدا ہو،مسلمانوں کو یہ بات سمجھائی جائے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا غلط ہے اور اس طریقہ کے غلط ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ،نہ یہ کہ مسئلہ کو ایسے طریقے پر پیش کیا جائے کہ اس سے مسلمانوں میں مسلکی اختلاف پیدا ہو اور عدلیہ کو قانون شریعت میں دخل اندازی کا موقع فراہم ہوجائے۔


muslims women



نیز یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اس مسئلہ کا تعلق ملک کے قانون سے نہیں بلکہ فتوی سے ہے۔اس لئے ایسے مسائل کو معتبر ارباب افتاء کے حوالہ کردینا چاہئے اور جن لوگوں کا یہ میدان نہیں ہے،انہیں ایسے نازک اور حساس مسائل پر اظہار خیال سے گریز کرنا چاہئے۔

First published: May 03, 2016 09:17 PM IST