ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو لیکر تنازع میں اضافہ ، مولانا محمود مدنی نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو لکھا خط

عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کے بعد سینٹرل وسٹا پروجیکٹ معاملے میں جمعیت علما ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے ، جس کے بعد اس معاملہ میں ہورہے تنازع میں اضافہ ہوگیا ہے ۔

  • Share this:
سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو لیکر تنازع میں اضافہ ، مولانا محمود مدنی نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو لکھا خط
سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو لیکر تنازع میں اضافہ ، مولانا محمود مدنی نے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کو لکھا خط

نئی دہلی : دہلی میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کے بعد سینٹرل وسٹا پروجیکٹ معاملے میں سابق ممبر پارلیمنٹ اور جمعیت علما ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے ، جس کے بعد اس معاملہ میں ہورہے تنازع میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مولانا محمود مدنی نے وسٹا پروجیکٹ کے تحت آنے والی مساجد کو لے کر اپنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر برائے رہائش اور شہری ترقیاتی امور حکومت ہند شری ہردیب سنگھ پوری کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بہر صورت ان مساجد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا منفی رویہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی متبادل کی گنجائش ہے ۔


واضح رہے کہ کہ مذکورہ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے زیر احاطہ علاقے میں ضابطہ گنج مسجد مان سنگھ روڈ ، رکاب گنج مسجد گردوارہ شری رکاب گنج صاحب کے قریب ، کرشی بھون مسجد کرشی بھون، سنہری باغ روڈ مسجد نزد ادھیوگ بھون ، ایک عوامی مسجد جو کہ بعد میں نائب صدر جمہوریہ ہند ہاؤس کا حصہ بنا دی گئی ، سمیت کئی مسجدیں آتی ہیں ۔ ان مساجد کو لے کر عوامی طور پر منفی خدشہ پایا جارہا ہے ۔


بتادیں کہ اس سلسلہ میں جمعیۃ علما ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے ان تمام مساجد کا گزشتہ 6 جون کو دورہ بھی کیا تھا اور فردا فردا ساری مساجد کے احوال جمع کیے تھے ۔ اس وفد میں مولانا کے علاوہ قاری عبدالسمیع نائب صدر جمعیۃ علما ءصوبہ دہلی ، مولانا ضیا ءاللہ قاسمی ، مولانا یسین جہازی اور عظیم اللہ صدیقی شامل تھے ۔


مولانا محمود مدنی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ یہ مساجد ہماری قدیم عالمی وراثت کا حصہ ہیں ، بہر صورت جن کی حفاظت کی جانی چاہیے ، اگر ان کو نقصان پہنچایا گیا تو دنیا بھر میں ملک بدنامی ہوگی اور ایک مخصوص طبقہ کی شدید دل آزاری بھی ہو گی ۔ اس لیے ان کی حفاظت کے لیے حکومت ہند کے پاس ٹھوس منصوبہ ہونا چاہئے ، جس کا وہ وضاحت کے ساتھ اعلان بھی کرے ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا چاروں مساجد اس وقت آباد ہیں ۔ رہ گئی بات نائب صدر جمہوریہ ہند کی رہائش گاہ کے احاطے میں واقع مسجد کی ، تو جمعیۃ علماء ہند نے اس بات زورد یا ہے کہ اسے بھی مقصد اصلی کے استعمال کے لیے محفوظ رکھنا چاہئے ۔ ہمارے پاس یہ مصدقہ معلومات ہیں کہ 2016-17 کے اخیر تک مذکورہ مسجد بھی آباد تھی ۔ چونکہ نائب صدر کی رہائش گاہ اور اس کے ساتھ منسلک کمپاؤنڈ بھی وزارت رہائش و شہری امور حکومت ہند کے زیر انتظام ہے، لہذا ہم وزیر (رہائش اور شہری امور) سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جمعیۃ کے وفد کو کسی وقت مقررہ پر مذکورہ مسجد کے معائنے کی سہولت فراہم کریں۔

جمعیۃ علماء ہند کی ٹیم باضابطہ اس مسجد کا معائنہ کرنا چاہتی ہے ۔ تا کہ یہ امر یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ نائب صدر جمہوریہ ہند کی رہائش گا لان میں واقع مسجد اپنی حالت اصلی میں محفوظ ہے، کیوں کہ وہ مسجد بھی ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 09, 2021 09:26 PM IST