ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھوپال سینٹرل جیل کا واقعہ فرضی انکاونٹر کا شاخسانہ : مولانا محمود مدنی

نئی دہلی۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھوپال کی سینٹرل جیل میں قید سیمی کے نوجوانوں کے انکاؤنٹر پر اپنے سخت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Nov 01, 2016 07:36 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھوپال سینٹرل جیل کا واقعہ فرضی انکاونٹر کا شاخسانہ : مولانا محمود مدنی
مولانا محمود مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بھوپال کی سینٹرل جیل میں قید سیمی کے نوجوانوں کے انکاؤنٹر پر اپنے سخت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مختلف قرائن، ویڈیو کلپ اور دیگر شواہد کے حوالے سے کہا کہ ایسا صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پولس کا آزمودہ حربہ اور فرضی انکاؤنٹر ہے ، جس میں بھوپال سینٹرل جیل سے فرار دکھا  کر آٹھ بے دست و پا نہتے قیدیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا  گیا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ منظم اور منصوبہ بند کارووائی تھی جس سے نہ صرف بے قصور جانیں ہلاک ہوئیں بلکہ قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں بھی بکھیری گئیں ، اس لیے میرا مطالبہ ہے کہ آ زادانہ  جو ڈیشیل انکوائری کے ذریعے ان افسران کو بے نقاب کرکے سخت سزا دی جائے جو اس کارروائی میں ملوث تھے ۔


واضح ہو کہ ان مقتول نوجوانوں کا مقدمہ مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر لڑرہی تھی ، کئی سماعتوں کے بعد جمعیتہ کے وکلاء کے سامنے یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ وکیل استغاثہ (اے ٹی ایس) کے پاس ان کو قصور وار قرار دینے سے متعلق کوئی خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے ۔ مولانا مدنی نے سوال اٹھا یا کہ کیا ملک کی ایجنسیوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بے قصور نوجوانوں کو انکاؤنٹر کرنے کا راستہ منتخب کرلیا ہے؟  انھوں نے کہا کہ انکاؤنٹر سے متعلق دو ویڈیو سامنے آئے ہیں جوصاف ظاہر کرتے ہیں کہ ان غیر مسلح افراد کو پکڑ کر قریب سے مارا گیا ہے ۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ بھوپال کا سینٹر ل جیل جسے ہندستان کا سب سے بہتر جیل کا درجہ حاصل ہے ، جہاں مضبوط سیکوریٹی الارمنگ نظام، دیواروں میں کرنٹ کے تار، آرمڈ اسپیشل فورس موجود ہیں، وہاں سے کس طرح تین تین اونچی اور ناقابل تسخیر دیواریں کود کر آٹھ افراد بھاگ گئے اورپورے شہر کی پولیس خاموش بیٹھی رہی ۔


مولانا مدنی نے ریاستی وزیر داخلہ کے متضاد بیان پر بھی تنقید کی او رکہا کہ وہ پولس کے جرائم کو چھپانے کی کوشش نہ کریں ، بلکہ انھیں ان حقائق کا سامنے کرنا چاہیے کہ جو لوگ قید میں تھے ان کے پاس ہتھیار کہاں سے آگئے ؟ان کے جسم پر نئے کپڑے،ہاتھ گھڑی اور جوتے وغیرہ کس نے دیے اور ’’اس قدر بڑے کریمنل ‘‘کے آپریشن میں پولس والے موبائل سے کس طرح شوٹ کررہے تھے اور ایک میلے کی طرح مقامی گاؤں کی بھیڑ وہاں تماشہ کیسے دیکھ رہی تھی۔ مولانا مدنی نے اس بات کو بھی تکلیف دہ قراردیا کہ چند عناصر مقتولین کو دہشت گرد بتا کر اس سنگین معاملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جب کہ ہمارے ملک میں قانون کا راج ہے ، ہمارے ملکی قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب تک کوئی شخص مجرم ثابت نہ ہوجائے اسے مجرم قرارنہیں دیا جاسکتا ، لہذا یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے کہ وہ ملک کے قانون اور نظام کو روند کر نام نہاد محب وطن بن بیٹھے ۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیتہ علماء ہند ان کا مقدمہ لڑرہی تھی ، اس لیے خاموش نہیں بیٹھ سکتی اور عدالت کے سامنے اس سے متعلق حقائق کو بے نقاب کرے گی ۔

First published: Nov 01, 2016 07:36 PM IST