உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بندی کے بعد پیش آنے والے سخت حالات پر صبر کریں، بے چینی اور جذباتیت سے بچیں: مولانا محمد رحمانی مدنی

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی مدنی نے نوٹ بندی کے بعد پیدا ہوئے حالات کا جائزہ لیا اور اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی حقیقت میں مسلمان ہے تو حکومت کے اس فیصلہ سے وہ سب سے کم متاثر ہوگا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔’’ اسلام نے انسان کو خوشحالی کے لئے محنت اور کدوکاوش کرتے رہنے پر ابھارا ہے، اسلام دوسروں کے سرمایہ پر نظر رکھنے اور خود محنت نہ کرنے کی حرکت پر سختی کے ساتھ روکتا ہے اور ہر انسان کو اپنے خرچ کے لئے جائز وسائل اختیار کرنے اور بھر پور محنت کے ساتھ کام کرنے پر ابھارتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور ایک ایماندار تاجر کی مثال دو انگلیوں سے دی ہے کہ قیامت میں دونوں ایک ساتھ ہوں گے۔ اسلام غربت کو جڑ سے ختم کرنے کی بے شمار تدابیر پیش کرتا ہے اور فضول توکل نیز غلط انداز کی قناعت اور اپنی حیثیت سے نیچے گر کرزندگی گزارنے کو غیر اسلامی گردانتا ہے۔مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکاۃ کی ادائیگی اور صدقات وخیرات کے ذریعہ غربت کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھائیں۔ اگر صاحب ثروت مسلمان اپنی دینی ذمہ داری کو محسوس کریں تو مسلمانوں کے درمیان سے غربت کافی حد تک ختم ہوسکتی ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر،نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔ مولانا غربت وافلاس پر اسلامی تعلیمات کی وضاحت فرما رہے تھے۔


      مولانا نے نوٹ بندی کے بعد پیدا ہوئے حالات کا جائزہ بھی لیا اور اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار بھی کیا اور فرمایا کہ اگر کوئی حقیقت میں مسلمان ہے تو حکومت کے اس فیصلہ سے وہ سب سے کم متاثر ہوگا کیونکہ مسلمان ہمیشہ قانون کے دائرہ میں زندگی گزارتا ہے اور وہ کبھی بھی غریبوں کا حق ناجائز طریقہ سے نہیں مارتا۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود فاقہ کی زندگی گزارلیتے تھے لیکن دوسروں کو آسودہ کرنے کی فکر میں ہمیشہ رہتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی واقعات ایسے ہیں کہ آپ بھوکے اور پیاسے کئی کئی روز تک رہے اورضرورت مندوں کو تعاون دیتے رہے۔ آپ کی لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے تعاون مانگا تو ان کوبھی آپ کچھ نہ دے سکے اور سارا مال عوام میں صرف کرڈالا۔ خطیب محترم نے فرمایا کہ مسیحیت میں غربت کو خوبی سمجھا جاتا ہے اوران کے یہاں اس سے لڑنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بعض باطل فرقے اسے مقدر کا حصہ سمجھتے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام میں مال کو اپنی محنت اور کاوش کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے اور غریبوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ یہودیت اور فسطائی نظام والے بھی غریبوں کو چوستے ہیں جب کہ اشتراکیت اور کمنسٹوں کا طریقہ لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا ہے۔ ان تمام نظاموں کے نتیجہ میں رشوت خوری اور حرام خوری کو رواج ملتا ہے نیز چوری اور ڈکیتی کے واقعات بڑھتے ہیں ، قانون شکنی کو ترویج ملتی ہے اور ناانصافی کا بول بالا ہوتا ہے۔جب کہ اسلام نے حرکت وعمل،تجارت، زراعت اور دستکاری وغیرہ کے ذریعہ غربت کو دور کرنے کی تلقین کی ہے، مالداروں کو غریبوں کے ساتھ تعاون پر ابھارا ہے،زکاۃ اور بیت المال کا مستقل نظام پیش کیا ہے، صدقات وخیرات اور دیگر جائزامدادی ذرائع کو اپنانے پر ابھارا ہے اور اس کی فضیلت بھی بیان کی ہے۔


      مولانا رحمانی نے یہ بھی فرمایا کہ آج غیر اسلامی نظام ہی کے نتیجہ میں بعض لوگوں نے سستی دواؤں کو کئی کئی گنا مہنگا کرکے غریبوں کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں اور علاج ومعالجہ اور دوسری تمام ضروریات میں کمیشن اور کرپشن بڑھتا چلا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو آپسی اختلافات کو بھول کر ایک متحدہ پلیٹ فارم تیار کرنا چاہئے اور اسلامی روح اور تعلیمات کی روشنی میں دنیا کے سامنے ایک شاندار اور مضبوط اسلامی دستور پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اسلام ہی دنیا کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ مولانا نے چند روز قبل ایک نیوز چینل پر پابندی اوراسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکرنائک کے ادارہ پر پانچ سال کے لئے لگنے والی پابندی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ تمام چیزیں انصاف کے ساتھ قانون کے دائرہ ہی میں کی جانی چاہئیں۔ اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

      First published: