ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا اتباع رسول ہے ، بدعات کو انجام دینا نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی

انبیاء کرام نے کسی نبی کی ولادت کا دن نہیں منایا اورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نبی کی ولادت کا دن منایا اورنہ ہی صحابۂ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی تقریب کا اہتمام کیا اورنہ تابعین وتبع تابعین اورمحدثین کرام وعلماء عظام نے اپنے اسلاف میں سے کسی کی ولادت کا دن منایا۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 10, 2016 07:36 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا اتباع رسول ہے ، بدعات کو انجام دینا نہیں : مولانا محمد رحمانی مدنی
مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

نئی دہلی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اورآپ کی پیروی نیز آپ کی سیرت مطہرہ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم متبع رسول بن جائیں اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کواختیار کرلیں اوردین میں کسی بھی قسم کے حذف واضافہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں کیوں کہ دین وہی ہے جو اورجتنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ،اس میں کوئی کمی اورزیادتی ممکن نہیں ہے بلکہ وہ باعث عذاب ہے ،اس وجہ سے ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اوراپنانے کے لئے قرآن مجید،سنت رسول اوراسوۂ صحابہ کی جانب رجوع کرنا چاہئے ورنہ ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ،نئی دہلی کے صدر مولانا محمدر حمانی سنابلی،مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق،جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا ، مولاناعیدمیلاد النبی کی شرعی حیثیت پر خطاب کررہے تھے ، مولانا نے مزید کہا کہ انبیاء کرام نے کسی نبی کی ولادت کا دن نہیں منایا اورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی نبی کی ولادت کا دن منایا اورنہ ہی صحابۂ کرام نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی تقریب کا اہتمام کیا اورنہ تابعین وتبع تابعین اورمحدثین کرام وعلماء عظام نے اپنے اسلاف میں سے کسی کی ولادت کا دن منایا۔ دراصل اس کا پورے خیرالقرون بلکہ اس کے بعد کے بھی ایک طویل مدت تک کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتاتو جس خیر کا ذکر قرآن مجید ،سنت رسول،عہد صحابہ اوراسلاف سے نہ ملتا ہو ،اسے دین سمجھ کر انجام دینا بدعت ہے ،لہذا مسلمانوں کو اس اندازکی چیزوںسے بچنا چاہئے اورقرآن وسنت کی اور صحابۂ کرام کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہئے۔

مولانا نے مزید کہا کہ عیسائیوں نے جس طرح محفل میلاد عیسی کا اہتمام کیا آج اسی کی مشابہت اختیار کرکے مسلمانوں نے بھی میلاد النبی کا اہتمام کرنا شروع کردیا،اگر یہ دین ہوتا اورخیر اورثواب کا باعث ہوتا تو صحابۂ کرام بھی اس خیر کو ضرور انجام دیتے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ محفل میلاد میں ناچ گانے بھی ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہیں ۔اسے ساتویں صدی میں اربل کے بادشاہ نے ۶۵۰ھ میں ایجاد کیا۔اس سے پہلے اس کا وجود نہیں تھا۔موصوف نے مزید فرمایا کہ مسلمانوں کو بدعات سے بچنا چاہئے کیوں کہ بدعات گمراہی کا سبب ہیں اورگمراہی جہنم میں لے جانے والا عمل ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن بدعتی سے براء ت کا اظہار کریں گے نیز اسے حوض کو ثر کے مبارک پانی سے محروم کردیا جائے گا۔مولانا نے تاریخ ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک موقع کا تذکرہ اوراس کی تحقیق بھی ذکر فرمائی ا ورفرمایا کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ۸ربیع الاول کو راجح قراردیا ہے جبکہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے دس اورقاضی سلیمان منصور پوری اورمولانا شبلی نعمانی وغیرہ نے ۹ ربیع الاول کو راجح کہا ہے اورمشہور بریلوی عالم احمدرضاخاں نے ۸ ربیع الاول کو راجح قراردیا ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ میں موجود ہے۔

مولانا نے بعض ماہرین فلکیات کی تحقیق کا خلاصہ بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم کی وفات کے وقت جو سورج گہن لگاتھا وہ آپ کی عمر کا 63 واں سال تھا۔ریاضی کے لحاظ سے اس گہن کی تاریخ 7 جنوری633 ء صبح آٹھ بجکر تیس منٹ ہوتی ہے۔اگر اس لحاظ سے ہم 63 برس پیچھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا سنہ 571 ھ ہے۔اوراگرہیئت کے قواعد کے لحاظ سے دیکھاجائے تو اس سال ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12 اپریل 571 ء ہوگی۔ولادت باسعادت کے بارے میں سوموار کا دن ربیع الاول کا مہینہ متفق علیہ ہے اوراختلاف صر ف تاریخ میں ہے ۔ لہذا ریاضی کے حساب سے اگرجوڑا جائے تو اس سال سوموار کا دن 9 ربیع الاول کو پڑتاہے۔

مولانا نے مندرجہ بالا تحقیق کی روشنی میں 9 ربیع الاول کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی تاریخ کا راجح قول قرار دیا اورفرمایا کہ اس میں بھی تقریب اورحفل کا اہتمام جائز نہیں کیوں کہ شریعت میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ بدعات سے بچیں اورتمام امور میں اسوۂ رسول کو اختیار کریں تاکہ وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہوسکیں۔اخیر میں دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

First published: Dec 10, 2016 07:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading