உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حج کوٹہ میں اضافہ کی اقلیتی وزیر کی کوشش خوش آئند، مسلمانوں کے درد سے سرکار کو باخبر کیا جائے: مولانا معظم

    نئی دہلی۔ آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر اور فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام مولانا محمد معظم احمد نے حج کوٹہ بڑھائے جانے کی مرکز ی سرکار کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کا یہ قدم خوش آئند ہے ۔

    نئی دہلی۔ آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر اور فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام مولانا محمد معظم احمد نے حج کوٹہ بڑھائے جانے کی مرکز ی سرکار کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کا یہ قدم خوش آئند ہے ۔

    نئی دہلی۔ آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر اور فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام مولانا محمد معظم احمد نے حج کوٹہ بڑھائے جانے کی مرکز ی سرکار کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کا یہ قدم خوش آئند ہے ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر اور فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام مولانا محمد معظم احمد نے حج کوٹہ بڑھائے جانے کی مرکز ی سرکار کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز کا یہ قدم خوش آئند ہے ۔ مولانا نے کہا کہ متعلقہ وزیر مختارعباس نقوی نے میڈیا میں جاری بیان میں کہا ہے کہ سرکار حج کوٹہ میں اضافہ کیلئے سعودی سرکار سے بات چیت کرے گی جس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مولانا نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ سرکار کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حج کوٹہ تمام ممالک کو ان کی مردم شماری کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور کسی ملک کو اس میں بسنے والے مسلمانوں کے تناسب سے ہی حج کوٹہ اسے الاٹ کیا جاتا ہے ، اس لئے ہماری مختار عباس نقوی سے گذارش ہے کہ وہ سعودی حکومت کے سامنے ہندوستانی مسلمانوں کے صحیح اعداد وشمار پیش کریں تاکہ حج کوٹہ میں اضافہ حقیقی طورپر ممکن ہوسکے ۔


      مولانا نے کہا کہ ماضی میں حج کمیٹی میں مختار عباس نقوی کیسا تھ کام کرنے کا موقع ملا ہے اور میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ مسلم مسائل سے بنیادی طورپر واقف ہیں اس لئے ایسے شخص کیلئے مسائل کا حل مشکل نہیں ہے جو اس سے بہ خوبی واقف ہو۔ مولانا نے کہا کہ ہم کامن سول کوڈ اور طلاق ثلاثہ کے بار ے میں مختار عباس نقوی سے گذارش کریں گے کہ وہ سرکار اور مسلمانوں کے مابین پل کا کام کریں اور مسلم پرسنل لاء کے در د کو سرکار تک پہونچانے کی کوشش کریں ۔ مولانا نے کہا کہ یہ کام بھی نقوی صاحب کیلئے مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ اس وزارت(پارلیمانی امور) سے بھی تعلق رکھتے ہیں جس کا تعلق براہ راست وزیراعظم سے ہے ۔


      مولانا نے کہا کہ نقوی صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں کو خوف سے ان کی سرکار نکالنے میں کامیابی پا رہی ہے تو میری ان سے گذارش ہے کہ جو مسلمانوں کے بنیادی مسائل ہیں اس طرف سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور مسلمانوں کے درد کو سمجھ کر سرکار کو بتائیں کہ آج مودی سرکار میں مسلمان خوف زدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار نے کسی بھی اقلیت کے خوف کا ازالہ نہیں کیا تو سرکار کی امیج پوری دنیا میں مجروح ہوگی اور سرکار کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جس ملک میں اقلیتیں محفوظ نہ ہوں اس ملک کی انتظامیہ پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان لگتا رہا ہے۔ (پریس ریلیز) ۔

      First published: