உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدل وانصاف قائم کرکے ظلم وجور سے توبہ کی جائے تاکہ امن وسکون عام ہوسکے: مولانا محمد رحمانی مدنی

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    ۔اسلامی روح یہی ہے کہ ہمارے ماتحت رہنے والا کوئی بھی انسان پریشان حال نہ ہو اور عدل کا دامن نہ چھوڑا جائے نیز قانون کی زد میں جو بھی آجائے چاہے بڑا آدمی ہو یا چھوٹا اسے سزا دی جانی چاہئے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : اللہ رب العالمین نے ظلم وجور کو حرام کیا ہے ۔ہمیں عدل وانصاف کا دامن تھامے رکھنا چاہئے تاکہ ملک میں امن وسلامتی کا ماحول پنپ سکے اور مظلوموں کی آہیں دعاؤں میں بدل سکیں۔اسلامی روح یہی ہے کہ ہمارے ماتحت رہنے والا کوئی بھی انسان پریشان حال نہ ہو اور عدل کا دامن نہ چھوڑا جائے نیز قانون کی زد میں جو بھی آجائے چاہے بڑا آدمی ہو یا چھوٹا اسے سزا دی جانی چاہئے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ایک بڑے گھرانے کی خاتون کے لئے سفارش آئی کہ اس کا چوری کرنے پر ہاتھ نہ کاٹا جائے تو آپ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا کہ یہ ہلاکت کے اسباب میں سے ہے، پھر قسم کھا کر فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں خود اس کا ہاتھ ۃکاٹ دوں گا۔مولانا نے چند روز پہلے سعودی عرب میں ایک شہزادہ کے سر قلم کئے جانے کے واقعہ کو بھی بطور اسلامی مثال کے بیان فرمایا ۔
      ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا ملکی حالات کے تناظر میں ظلم وجورپر اسلامی وعید اور عدل وانصاف کی برکتیں کے موضوع پر گفتگو فرمارہے تھے۔
      مولانا نے مزید کہا جولوگ ظلم کرتے ہیں انہیں آخرت میں دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اور ظالموں پر دنیا میں بھی اللہ رب العالمین مختلف قسم کا عذاب نازل فرماتا ہے ، کبھی ظالم کو زمین میں دھنسا دیا جاتا ہے تو کبھی اسے زمین پر پانی میںڈبو کر اورکبھی آسمان سے پتھروں کی بارش کا عذاب دیا جاتا ہے اس وجہ سے ہمیں ظلم سے توبہ کرکے قرآن وسنت کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔مولانا موصوف نے بھوپال انکاؤنٹر پر سختی کے ساتھ تردیدی تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح اقلیات کو ہراساں کرنے سے ملک ٹوٹ جائے گا نیز جے این یو کے طالب علم نجیب کا ذکر کرکے انہوں نے تنبیہ کی کہ اس کی ماں کے آنسو اور بددعا سے ظالموں کو ڈرنا چاہئے۔مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ نجیب جس مکتب فکر کا ہے اسی مکتب فکر کے بعض افراد نے ابھی چند مہینوں پہلے دہلی میں مسلمانوں کا بعض لوگوں کے ہاتھوں سودا کیا تھا تو آج وہ اسے تلاش کرنے میں کوئی رول ادا کیوں نہیں کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے ہماری بے غیرتی پر مار ہے، اس لئے ہم کو سچائی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور اپنی قوم کے تئیں حساس بننا چاہئے۔مولانا نے جے این یو کے حالات پر مسلسل ہونے والی سیاست اور ناانصافی پر گہرے صدمے کا اظہار بھی فرمایا۔
      انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے لہذا پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی مسلمان مظلوم ہے تو اس کا درد تمام مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہئے اور قانون کے دائرہ میں رہ کر اپنی طاقت بھر اس کی پریشانی کو دور کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔اس سلسلہ میں مسلمانوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رات کے پچھلے پہر تنہائی میں اللہ رب العزت سے رو رو کر اپنے حالات کی اصلاح کے لئے دعائیں کریںکیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ہم پر جب بھی مصیبت پڑتی ہے تو اس کے لئے ہم سب کچھ کرڈالتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اور نہ توبہ واستغفار کرکے اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔
      First published: