உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حلب کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ، ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کو دعاؤں میں یاد رکھنا چاہئے : مولانا محمد رحمانی مدنی

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    شام کے حلب نامی علاقہ کے حالات اس وقت بہت ہی سنگین موڑ اختیار کرچکے ہیں۔وہاں کے عوام پر بمباری کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی ہلاک ہورہے ہیں

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : شام کے حلب نامی علاقہ کے حالات اس وقت بہت ہی سنگین موڑ اختیار کرچکے ہیں۔وہاں کے عوام پر بمباری کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے، چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی ہلاک ہورہے ہیں۔ایک چھوٹی سی سات سال کی بچی رورو کر اپنے زخمی باپ کے سامنے بیٹھ کر مدد کی فریاد کرتی ہے اور تعجب کرتی ہے کہ میں پتہ نہیں کیسے ابھی تک زندہ ہوں۔بعض عورتوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کے لئے علماء سے فتوی طلب کیا ہے کہ کیاوہ خودکشی کرکے اپنی عصمت کو محفوظ کرسکتی ہیں؟ محصور علاقہ میں تقریبا پچاس ہزار افراد کی جانیں خطرہ میں ہیں اور ان پر بشار الاسد کی ظالم حکومت اپنے حلیفوں کی مدد سے مسلسل بمباری کررہی ہے۔
      ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا سیریا اور عالم اسلام کے حالات اور موجودہ صورت حال میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر گفتگو فرمارہے تھے۔
      انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے طرفدار ممالک سیریا میں پانچ سال سے چل رہے ظلم وجور کے اس کھیل پر خاموشی اختیار کرکے مجرمانہ رول ادا کررہے ہیں، وہاں معصوموں کا خون بہایا جارہا ہے ۔ اب تک وہاںتقریبا پانچ لاکھ سنی مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔ایک ظالم حکومت کو بچانے کے لئے نہ جانے کتنے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔مولانا نے فلسطین کے حالات پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کیا اور ہندوستان میں بھی جو حالات مسلسل بنتے جارہے ہیں ان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان حالات کی سنگینی کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں، ہم نے اللہ کی مدد چھوڑ دی ،توحید اور اتباع رسول کو نظر انداز کردیا، حلال وحرام کی تمیز بھول گئے، مصائب پر اللہ سے رونے اور اس کی جانب رجوع کرنے کا معاملہ ہمارے یہاں ختم ہوگیا، ہم بظاہر تو مسلمان ہیں لیکن ہمارے دلوں سے اسلام رخصت ہوچکا ہے۔اللہ رب العالمین نے سورہ نور کی آیت نمبر ۵۵ میں اسی حقیقت کو ذکر کیا ہے کہ ہم ایمان، اعمال صالحہ اور توحید واتباع رسول کو چھوڑنے کے نتیجہ میں ناکام ہوگئے ہیں۔
      First published: