உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چوبیس سال گزرجانے کے باوجود بابری مسجد کا حق نہ مل پانا جمہوریت کے نام پر بدنما داغ: محمد رحمانی

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی مدنی: فائل فوٹو۔

    مولانا محمد رحمانی نے فرمایا کہ ہم اسی شخصیت کے پیروکار ہیں جس کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اللہ رب العالمین نے جس کی قسم کھائی اور تائید ونصرت کا اعلان کیا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ ’’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اصل تقاضہ یہ ہے کہ ہم کلی طور پرآپ کی سیرت طیبہ کو اختیار کرلیں۔ ہمارا ہر عمل سنت رسول کے مطابق ہو۔ہم چلنے پھرنے،اٹھنے بیٹھنے،سونے جاگنے، کھانے پینے،رہنے سہنے، معاملات اور تجارت اور دین ودنیا کے تمام امور میں سیرت وسنت رسول کی چلتی پھرتی تصویر بن جائیں۔اللہ رب العالمین نے مسلمانوں پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعہ جو احسان عظیم کیا ہے اس سے دنیا کی ہر قوم، تمام مذاہب اور تمام طاقتیں محروم ہیں، اس وجہ سے تمام مسلمانوں کو اس عظیم احسان کی قدر کرنی چاہئے۔آج ہمارے انتشار واختلاف کا بنیادی سبب ہمارا سنت رسول سے دور ہونا ہے اور مختلف شخصیات اور مکاتب فکر کی پیروی کرنا ہے اگر ہم صرف حکم رسول کو مانتے تو اختلاف کم سے کم تر ہوتا‘‘ ۔  ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا، مولانا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر گفتگو فرمارہے تھے۔


                  خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ ہم اسی شخصیت کے پیروکار ہیں جس کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اللہ رب العالمین نے جس کی قسم کھائی اور تائید ونصرت کا اعلان کیا۔ مولانا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تقوی وپرہیز گاری،جودوکرم،رحم دلی اور رحمت،صبر وتحمل، عدل وانصاف، حیاء اور تواضع وخاکساری نیز دوسری بعض صفات مبارکہ پر مدلل گفتگو فرمائی نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔  مولانا موصوف نے بابری مسجد کے انہدام پر ۲۴؍برس گزرجانے کے باوجود کوئی فیصلہ نہ آنے پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے جمہوریت پر بدنما داغ قرار دیا نیز بابری مسجد کی مختصر تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات کا بھی ذکر کیا: بابری مسجد۱۵۲۷ء میں تعمیر کی گئی،۱۵۷۵ء میں تلسی داس نے کتاب لکھی لیکن رام مندر کا کوئی ذکر نہیں کیا،۱۸۵۷ء میں مسجد کے بغل میں ایک دیوار کھڑی کرکے کچھ حصہ ہندوؤں کے حوالہ کردیا گیا،۱۸۸۳ء میں اس حصہ میں مندر بنانے کی ناکام کوشش ہوئی،۱۸۸۵ء میں مندر بنانے کی عرضی عدالت نے رد کردی،۱۸۸۶ء میں اپیل بھی خارج کردی گئی،۱۸۷۷ء میں پہلی بار یہ بات کہی گئی کہ اسے مندر کو گراکر بنایا گیا ہے،۱۹۳۴ء میں ہندومسلم فساد میں مسجد کو نقصان پہنچا،۱۹۴۹ء میں مورتیاں رکھ دی گئیں،۱۹۵۰ء میں مسلمانوں نے مقدمہ کیا،۱۹۹۲ء میں اسے منہدم کردیا گیا۔


                  خطیب محترم نے فرمایا کہ یہ سب ہمارے دین سے دور ہونے اور سیرت وسنت رسول کو ترک کردینے کے نتیجہ میں ہوا ہے اس لئے ہم کوسب سے پہلے اپنی کوتاہیوں پر غور کرکے اپنے اعمال کو درست کرنا ہوگا اور سچا مسلمان بن کر زندگی گزارنی ہوگی تب اللہ کی نصرت وتائید کے کے ہم مستحق بنیں گے۔ اخیر میں دین کی جانب رجوع کرنے، سیرت رسول کو اپنانے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

      First published: