உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑ چھاڑ کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں: مولانا ارشد مدنی

    مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند کے مدنی ہال، بہادر شاہ ظفر مارگ میں جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹرم کی مجلس عاملہ کا ایک انتہائی اہم پہلا اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مولانا ارشد مدنی نے بمشورہ عاملہ جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا۔

    مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند کے مدنی ہال، بہادر شاہ ظفر مارگ میں جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹرم کی مجلس عاملہ کا ایک انتہائی اہم پہلا اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مولانا ارشد مدنی نے بمشورہ عاملہ جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا۔

    مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند کے مدنی ہال، بہادر شاہ ظفر مارگ میں جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹرم کی مجلس عاملہ کا ایک انتہائی اہم پہلا اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مولانا ارشد مدنی نے بمشورہ عاملہ جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا۔

    • Share this:
    نئی دہلی: مرکزی دفترجمعیۃ علماء ہند کے مدنی ہال، بہادر شاہ ظفر مارگ میں جمعیۃ علماء ہند کی اس ٹرم کی مجلس عاملہ کا ایک انتہائی اہم پہلا اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صدر مولانا ارشد مدنی نے بمشورہ عاملہ جاری ٹرم کے لئے مفتی سید معصوم ثاقب کو ناظم عمومی نامزد کیا، اجلاس کے شرکاء نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور وخوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن وقانون کی ابتری اور مسلم اقلیت کے خلاف بدترین امتیازی رویہ پرسخت تشویش کا اظہار کیا۔

    اجلاس میں کہا گیا کہ ملک کے امن واتحاد اور یکجہتی کے لئے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے، حکمرانوں کے ذریعہ آئین وقانون کی پامالی کی یہ موجودہ روش ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو تار تارکرسکتی ہے۔ اس موقع پر اجلاس میں اتفاق رائے سے جو تجاویز منظور ہوئیں ان میں سے دو اہم تجاویز میں کہا گیا کہ جناب نبی کریمﷺ کی شان میں جن لوگوں نے گستاخی کی جرأت کی ہے ان کی معطلی ہی کافی نہیں بلکہ انہیں فوری گرفتارکرکے قانون کے مطابق ایسی سخت سزادی جانی چاہئے، جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔

    دوسری اہم تجویز میں کہا گیا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے اہم قانون میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تجویز میں کہا گیا ہے کہ ترمیم یاتبدیلی کے بجائے اس قانون کو مضبوطی سے نافذ کیا جانا چاہئے، جس کے سیکشن 4 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہے کہ ”یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15/ اگست 1947 میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت ویسی ہی رہے گی، جیسی کہ اس وقت تھی“ سیکشن 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ اگر 15 اگست 1947 میں موجودکسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیرالتوا ہے، تو وہ منسوخ ہو جائے گی اور اس طرح کے معاملہ میں کوئی مقدمہ، اپیل یا دیگرکارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے اس کے بعد پیش نہیں ہوگی، اسی لئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل ہے، جمعیۃ علماء ہند اس میں مداخلت کار بنی ہے۔

    مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ عاملہ کا یہ اجلاس ایک ایسے نازک وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب پورے ملک میں بدامنی، افراتفری، فرقہ واریت اور لاقانونیت اپنی انتہا پر ہے، ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے ان کے آئینی وجمہوری اختیارات چھینے جارہے ہیں، یہاں تک کہ ان کے ذریعہ کئے جانے والے پُرامن احتجاج کو بھی ملک دشمنی سے تعبیرکرکے قانون کی آڑ میں ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہمارے رسول اقدسﷺ کی شان میں دانستہ گستاخی کی گئی اور ان گستاخوں کی گرفتاری کے مطالبہ کو لے کرجب مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی گئیں، یہاں تک کہ اس کی پاداش میں بہت سے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیا گیا، بڑے پیمانے پرگرفتاریاں ہوئی ہیں اور ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں، یعنی جو کام عدالتوں کا تھا اب وہ حکومتیں کر رہی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب ہندوستان میں قانون کی حکمرانی کا دور ختم ہوگیا ہے، سزا وجزا کے تمام اختیارات حکومتوں نے اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں، ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ہی قانون ہیں، ایسا لگتا ہے اب نہ ملک میں عدالتوں کی ضرورت ہے اورنہ جج درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس احتجاج کو دیکھنے کے دو پیمانہ ہیں، مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم، لیکن اگر اکثریت کے لوگ احتجاج کریں اور سڑکوں پر اترکر پرتشدد کارروائیاں انجام دیں اور پوری پوری ریل گاڑیاں اور اسٹیشن پھونک ڈالیں تو انہیں تتر بترکرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا، انتظامیہ کا مظاہرہ اوراحتجاج کرنے والوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فوج میں ٹھیکہ کے نوکری کے خلاف ہونے والا پُرتشدد احتجاج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، احتجاجیوں نے جگہ جگہ ٹرینوں میں آگ لگائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا پولس پر پتھربازی کی تو وہیں پولس جو مسلمانوں کے خلاف  تمام حدیں توڑ دیتی ہے، خاموش تماشائی بنی رہی اس پرتشدد احتجاج کو لے کرجو لوگ گرفتارکئے گئے ہیں، ان کے خلاف ایسی ہلکی دفعات لگائی گئی ہیں کہ تھانہ سے ہی ان کی ضمانت ہو سکتی ہیں، اترپردیش پولس کا ایک بڑا افسران واقعات پر یہ کہتا ہے کہ یہ ہمارے ہی بچے ہیں ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

    مجلس عاملہ میں دونوں جمعیتوں کے اتحاد کے سلسلہ میں بھی بحث ہوئی۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہر ممبرکو آزادی کے ساتھ گفتگو کی اجازت دی گئی کم وبیش ایک گھنٹہ گفتگو کے بعد متفقہ طورپرتمام ارکان نے صدرجمعیۃ علماء مولانا ارشد مدنی کو دونوں جمعیتوں کے اتحاد کے عمل کو آخری شکل دینے کا مکمل اختیار دے دیا۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ خدا کی ذات سے توقع ہے کہ ان شاء اللہ اتحاد کا عمل خیر وبرکت کے ساتھ سامنے آئے گا اور پہلے سے زیادہ خدمت خلق کے لئے جمعیۃ علماء کے خدام اتحاد واتفاق کے ساتھ کام کر سکیں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: