ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام شہریت معاملہ: جمعیۃعلماء کے وکلاء مذہب سے اوپراٹھ کرمتاثرین کی قانونی مدد کےلئے تیار: مولانا سید ارشد مدنی

عدالت عظمیٰ کے فیصلہ 25 ستمبرسے کلیم اورآبجکشن کا عمل شروع کئے جانے پرصدرجمعیۃعلماء ہند نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام شہریت معاملہ: جمعیۃعلماء کے وکلاء مذہب سے اوپراٹھ کرمتاثرین کی قانونی مدد کےلئے تیار: مولانا سید ارشد مدنی
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

آسام شہریت معاملہ پرعدالت عظمیٰ کے فیصلہ 25 ستمبرسے کلیم اورآبجکشن کا عمل شروع ہونے پرصدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے وکلاء کی بحث سے پوری طرح مطمئن ہیں۔


انہوں نے کہا کہ امید افزابات یہ ہے کہ15 دستاویزات میں سے جوپانچ دستاویزات الگ کئے گئے ہیں، عدالت نے انہیں مستردنہیں کیا ہے اوراس بات کی وضاحت بھی کردی ہے کہ آئندہ جن لوگوں کے نام این آرسی میں شامل نہ ہوں گے انہیں دوبارہ شہریت ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اورتب دیگرپانچ دستاویزات پیش کرنے کی اجازت بھی انہیں حاصل ہوگی۔


مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سے ایک بارپھریہ بات ثابت ہوگئی کہ اس مسئلہ کو لے کرعدالت بہت حساس ہے۔ انہوں نے آسام کےعوام سے اپیل کی کہ وہ اس تعلق سے بالکل پریشان اورمایوس نہ ہوں۔ 25 ستمبرسے این آرسی کے تیاری کا جب دوبارہ عمل شروع ہوگا، توجمعیۃعلماء ہند اورجمعیۃعلماء آسام کے وکلاء کی ٹیم اورکارکنان تمام مراکزپرموجودرہیں گے، جہاں وہ مذہب وملت سے اوپراٹھ کرانسانیت کی بنیاد پرچاہے وہ ہندوہو یا مسلم تمام متاثرین کوقانونی امداد فراہم کریں گے۔


متاثرین کی ہرممکن کی جائے گی مدد

انہوں نے بتایا کہ فارم پرکرنا ہو، کلیم داخل کرنا ہو، یا دستاویزات کی تیاری کامعاملہ ہو یہ لوگ ہرطرح سے متاثرین کی مددکریں گے۔ مولانا مدنی نے تمام متاثرین سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ وقت مقررہ پر اپنے دستاویزات کے ساتھ این آرسی مراکزپرجائیں اور اپنی شہریت کے کاغذات داخل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ بھی جہاں ضرورت محسوس ہوگی، جمعیۃعلماء ہند ان کی مدد کیلئے ہمیشہ کی طرح موجود رہے گی۔

تمام مراکز پرہوں گے جمعیۃ کے وکلا

صدرجمعیۃعلماء آسام مولانا مشتاق عنفرنے کہا کہ ہم نے آسام کی متاثرین کی مددکے لئے وکلاء کا ایک پینل بھی تشکیل دے دیا ہے جو آبجکشن اور کلیم کے عمل کے دوران تمام مراکزپرجمعیۃعلماء کے کارکنان کے ساتھ متاثرین کی قانونی مددکے لئے موجودرہیں گے۔

دورکنی بینچ میں ہوئی سماعت

اس سے قبل آج آسام شہریت کے پانچ الگ الگ معاملوں میں سپریم کورٹ میں جسٹس رنجن گگوئی اورجسٹس ایف آرنریمن کی دورکنی بینچ میں سماعت کا آغازہوا تو جمعیۃعلماء ہند اورآمسو کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل، سینئرایڈوکیٹ سلمان خورشید، سینئرایڈوکیٹ اندراجے سنگھ اوروکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی پیروی کے لئے پیش ہوئے۔

حکومت ہند کے موقف کی تائید

جمعیۃعلماء ہند کے وکیل کپل سبل نے اسی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جو بھارت سرکارنے موقف اختیارکیا ہے وہی ہمارابھی موقف ہے اوراسی موقف کا ہم نے 17 ستمبر کو حلف نامہ بھی داخل کیا تھا۔ جمعیۃعلماء ہند کے دوسرے وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ ان دستاویزات کو ہٹانے کے علاوہ ہم نے اس سے پہلے کلیم اورآبجکشن (SOP)کے طریقہ کارکے متعلق بہت اہم تجاویز داخل کی تھیں۔ اس پربھی غورکرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جس پر کورٹ نے کہا کہ آپ ان تجاویزکو اورمختصرکرکے دوبارہ پیش کریں اس پراگلی تاریخ 23 اکتوبرکوغورکیا جائے گا۔

اس سے حکومت ہند کے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نےعدالت کی توجہ اس نکتہ پرمبذول کرائی کہ 15 دستاویزات میں سے جو5 دستاویزات نکال دیئے گئے ہیں، یہ سب رول A4 کا حصہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 1951 کی این آرسی اور1971 تک کی ووٹر لسٹ خصوصی طورپررول A4 ًکی بنیاد پرتیا رکی گئی ہیں، لہذاان کا ہٹایا جانا قانونا اوراصولاًغلط ہوگا کیونکہ یہ سب دستاویزات درخواست داخل کرنے کے وقت میسرتھے، جنہیں کلیم کی موجودہ مرحلے میں ہٹایا جانا غلط ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   آسام این آرسی: عدالت عظمیٰ کا حکم، این آرسی پر 25ستمبرسے شروع ہودعویٰ اعتراض

یہ بھی پڑھیں:    آسام شہریت معاملہ: سپریم کورٹ میں پانچ معاملوں پرشروع ہوئی سماعت، مولانا ارشد مدنی نےعدالت کے موقف کوبتایا خوش آئند

یہ بھی پڑھیں:   آسام کے این آر سی میں 2.90 کروڑ لوگ پائے گئے جائز شہری، پڑھیں خاص باتیں
First published: Sep 19, 2018 08:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading