ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ بل مسلمانوں کومنظورنہیں، وہ شریعت پرعمل کریں گے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کوقانونی شکل دیئے جانے پر اس کا غلط استعمال ہوگا۔

  • Share this:
طلاق ثلاثہ بل مسلمانوں کومنظورنہیں، وہ شریعت پرعمل کریں گے: مولانا ارشد مدنی
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نیوز 18 اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے۔

طلاق ثلاثہ بل راجیہ سبھا میں پیش کرنے کو لے کر اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب مودی حکومت نے آج گھٹنے ٹیک دیئے اور اب یہ بل راجیہ سبھا میں آئندہ سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے طلاق ثلاثہ بل میں تین ترمیمات کیں، لیکن اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے سبب اسے پیش نہیں کیا جاسکا، جس کی وجہ سے ابھی قانون نہیں بن سکا۔

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نیوز 18 اردو سے خصوصی بات چیت میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کوقانونی شکل دیئے جانے پر اس کا غلط استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ طلاق کے معاملے میں حکومت کیا کہتی ہے اور اسلامی نظام کیا کہتا ہے۔


مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان بل کو خارج کرچکے ہیں اور وہ شریعت پرعمل کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پاگل شخص نے ایک بار میں تین طلاق دے دی، جو کسی کو بھی نہیں دینا چاہئے، ایسے معاملے میں حکومت نے جو بھی قانون بنا دیا ہو، لیکن شریعت کے مطابق وہ شوہر اور بیوی کی طرح نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ یہ غلط ہی نہیں بلکہ اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے۔  طلاق ثلاثہ بل میں ترمیمات کے باوجود جمعیۃ علما ہند نے اس کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان شریعت پر عمل کرتے رہیں گے۔


اطلاعات کے مطابق حکومت تین طلاق بل پر آرڈیننس لانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سیشن میں لوک سبھا میں منظور کرایا جاچکا ہے۔ تاہم راجیہ سبھا میں اکثریت  میں نہ ہونے کے سبب اسے منظور نہیں کراسکی۔  راجیہ سبھا میں جمعہ کو تین طلاق سے متعلق بل پیش ہونے کی امید تھی ، مگر وہ پیش نہیں کیا جاسکا ۔ اب اگلے سیشن میں اس کو پیش کیا جائے گا ، کیونکہ موجودہ سیشن کا آج آخری دن ہے ۔ چیئرمین وینکیا نائیڈو نے اراکین کو بتایا کہ تین طلاق بل ابھی نہیں لیا جائے گا کیونکہ اس پر لوگ متحد نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ 29 دسمبر کو لوک سبھا میں یہ بل پاس ہوگیا تھا ، جس میں فوری تین طلاق دینے کو جرم کے زمرہ میں رکھا گیا تھا ۔ تین طلاق کی کئی شقوں پر اپوزیشن پارٹیوں کو اعتراض ہے، جس کی وجہ سے بل پارلیمنٹ میں تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
First published: Aug 10, 2018 10:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading