உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معروف عالم دین مولاناوحیدالدین خان نظام الدین میں سپردخاک،پی ایم مودی نے بھی کیااظہارتعزیت

    وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi ) نے مولانا واحید الدین خان (Maulana Wahiduddin Khan) کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دین اور روحانیت کے بارے میں انتہا درجہ کا کمال حاصل تھا اور مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi ) نے مولانا واحید الدین خان (Maulana Wahiduddin Khan) کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دین اور روحانیت کے بارے میں انتہا درجہ کا کمال حاصل تھا اور مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi ) نے مولانا واحید الدین خان (Maulana Wahiduddin Khan) کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دین اور روحانیت کے بارے میں انتہا درجہ کا کمال حاصل تھا اور مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    • Share this:
      معروف عالم دین، مفکر، درجنوں کتابوں کے مصنف اور مختلف مذاہب کے درمیان افہام و تفہیم کے علم بردار مولانا  وحیدالدین خان کو دہلی کے نظام الدین میں سپرد خاک کیاگیاہے۔ یادرہے کہ 96سال کی عمر میں مولانا وحید الدین کل رات دہلی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔10 دن پہلے انہیں کورونا سے متاثرہونے کے بعد دہلی کے اپولو اسپتال میں منتقل کیاگیاتھا۔ جہاں انہوں نے کل آخری سانس لی ۔

      مولانا واحید الدین خان کے انتقال پر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’مولانا کی علمی بصرت اور روحانیت کو یاد رکھا جائے گا‘‘جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi ) نے مولانا واحید الدین خان (Maulana Wahiduddin Khan) کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دین اور روحانیت کے بارے میں انتہا درجہ کا کمال حاصل تھا اور مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

      ایک ٹویٹ میں پی ایم مودی نے کہا کہ ’’مولانا وحیدالدین خان کے انتقال سے رنجیدہ ہیں۔ انہیں مذہب اور روحانیت کے سلسلے میں گہری بصیرت کے لئے یاد کیا جائے گا۔ انہیں سماج کی خدمت اور معاشرہ کو بااختیار بنانے کا بھی شوق تھا۔ ان کے اہل خانہ اور ان کے ان گنت خیر خواہوں کے لیے تعزیت پیش ہے۔ خدا ان کی مغفرت فرمائیں‘‘۔


      واضح رہے کہ معروف عالم دین مولانا وحیدالدین خان یکم جنوری 1925 کو بڈھریا اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 2022 بدھ کو دہلی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ 96 سال کے تھے۔ مولانا، معروف عالم دین اور مترجم قرآن مولانا امین احسن اصلاحی کا خاص شاگردوں میں تھے۔

      مولانا کی ہمہ جہت خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انھیں سنہ 2000 میں ملک کا تیسرا بلند ترین سویلین ایوارڈ ’’ پدم بھوشن‘‘ سے سرفراز کیا۔

      مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سوانح عمری ’’اوراق حیات‘‘ چند سال قبل ہی شائع ہوئی۔ جو تقریبا ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو اردو زبان کے معروف سوانح نگار شاہ عمران حسن نے دس سال کی طویل محنت کے بعد مرتب کیا ہے۔

      مولانا نے اردو زبان میں درجنوں کتابیں تصنیف کی ہیں۔ جن میں بہت سی کتابوں کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں حسب ذیل یہ ہیں:

      • مذہب اور علم جدید کا چیلنج

      • پیغمبر انقلاب

      • اسلام دور جدید کا خالق

      • تعبیر کی غلطی

      • تجدید دین

      • سفرنامہ اسپین وفلسطین

      • اظہارِ دین

      • تعمیر حیات

      • کتاب زندگی

      • قیادت نامہ

      • کتاب زندگی

      • فکر اسلامی

      • اللہ اکبر


      مولانا وحید الدین خان انگریزی کتابیں بھی تصنیف کی یا ان کی اردو کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ۔ وہ حسب ذیل ہیں:

       

      • Introducing Islam

      • Islam: Creator of the Modern Age

      • Islam: The Voice of Human Nature

      • Religion and Science

      • Words of the Prophet Muhammad

      • Building a Strong and Prosperous India and Role of Muslim

      • Woman Between Islam and Western Society

      • Woman in Islamic Shari'ah

      • Prophet Muhammad: ASimple Guide to His Life

      • The Quran for All Humanity

      • An Islamic Treasury of Virtues

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: