ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسی بھی صورت میں ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا : مولانا ولی رحمانی

سیمینار میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا فضل الرحمن مجددی جیسے علما نے شرکت کی اور دورِ حاضر میں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا

  • ETV
  • Last Updated: Aug 23, 2016 01:05 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کسی بھی صورت میں ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا : مولانا ولی رحمانی
سیمینار میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا فضل الرحمن مجددی جیسے علما نے شرکت کی اور دورِ حاضر میں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا

علی گڑھ :  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور سرسید اوئیرنس فورم کے زیر اہتمام مسلم یونیورسٹی میں قومی سیمینار مسلم پرسنل لا کی معنویت اور اس کی قانونِ فطرت سے ہم آہنگی کے موضوع پر ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا ۔ سیمینار میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا فضل الرحمن مجددی جیسے علما نے شرکت کی اور دورِ حاضر میں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ مقررین نے کہا کہ آج مسلم پرسنل لا پر چوطرفہ حملہ ہورہے ہیں ۔ اس کے خلاف لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے پروگرام ملک کے دیگر حصوں میں بھی منعقد کئے جائیں ۔ یکساں سول کوڈ پر کو کسی بھی صورت میں ملک میں نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔

مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ سماج میں آزادی نسواں کے نام پر نئے طرز کی غلامی نے جگہ لے لی ہے ، جس طرح خواتین کو ذلیل و رسوا کیا جارہا ہے اور خواتین اس ذلت کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ تہذیب و شائستگی کے نام پر مردوں کو بند گلے کا سوٹ پہنا دیا گیا ہے تو آرٹ اور کلچر کے نام پر خواتین کو بے لباس کردیا گیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملات و مسائل میں انتہائی اہم معاملہ اقلیتی کردار کا ہے ۔  میں اس مسئلہ سے ماضی میں بھی وابستہ رہا ہوں اور آج بھی جڑاہوا ہوں ۔ اس کے تحفظ کے لئے ہم ہر ممکن تعاون کے لئے پہلے بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں ۔

سمینار میں خواتین کی عزت و احترام اور اسلام میں طلاق کا معاملہ جیسے اہم معاملوں پر کھل کر بات کی گئی ۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم یونیورسٹی نے یقین دہانی کرائی کہ انھیں مسلم پرسنل لا  بورڈ پر پورا اعتماد ہے اور ملک کا مسلمان ان کے ساتھ ہے ۔

First published: Aug 23, 2016 01:05 AM IST