உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مایاوتی کا مودی پر نشانہ ، کہا : 500 اور 1000روپے کے نوٹ بند کرکے حکومت نے غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی

    مایاوتی نے کہا،’’پورے ملک کے لوگوں کو قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے)حکومت کے اس فیصلے سے پریشانی ہورہی ہے۔یہاں تک کے غریب طبقے کے لوگوں کے سامنے بھکمری کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

    مایاوتی نے کہا،’’پورے ملک کے لوگوں کو قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے)حکومت کے اس فیصلے سے پریشانی ہورہی ہے۔یہاں تک کے غریب طبقے کے لوگوں کے سامنے بھکمری کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

    مایاوتی نے کہا،’’پورے ملک کے لوگوں کو قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے)حکومت کے اس فیصلے سے پریشانی ہورہی ہے۔یہاں تک کے غریب طبقے کے لوگوں کے سامنے بھکمری کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      لکھنؤ : بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)کی صدر مایاوتی نے آج الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت نے 500اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ختم کرکے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ مایاوتی نے کہا،’’پورے ملک کے لوگوں کو قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے)حکومت کے اس فیصلے سے پریشانی ہورہی ہے۔یہاں تک کے غریب طبقے کے لوگوں کے سامنے بھکمری کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔بی ایس پی کی صدر نے یہاں آج منعقد پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے ڈھائی سال کے اپنے دور اقتدارمیں لوگوں کو گنوانے کے لئے خصوصیت نہیں ہے۔اس لئے لوگوں کی توجہ ہٹانے کےلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
      انہوں نے کہا کہ اگر مسٹر مودی کالے دھن اور بدعنوانی کی روک تھام کےلئے واقعی سنجیدہ تھے تو کالے دھن کا ذخیرہ نکالنے کےلئے کاروباری خاندان جو ان کے دوست ہیں ،پر چھاپے مارنے چاہیے تھے۔حکومت کو ایسا فیصلہ نہیں لینا چاہیے تھا جس سے ملک کے سواکروڑ لوگ متاثر ہوئے۔ محترمہ مایاوتی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی مرکز میں ڈھائی سال کے دور اقتدار میں غیر ملکوں اور اپنے خیر خواہ بڑے صنعتی گھرانوں کی مدد کرکے سوسال کےلئے پیسوں کا انتظام کرلیا ہے۔اسی لئے انہوں نے ملک میں اقتصادی ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
      بی جےپی اور کانگریس کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ ریاستوں کے آئندہ انتخابات میں عوام بی جےپی کو سبق سکھائے گی۔ بی ایس پی کی صدر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ آج یہاں ریاست کی موجودہ سیاسی صورت حال پر غورکریں گی۔اس کے ساتھ وہی پارٹی کے بانی کاشی رام کی برسی 9اکتوبر کو لکھنؤ میں دی گئی اپنی تقریر کی سی ڈی اور ایک کتابچہ کا معنون کریں گی۔
      محترمہ مایاوتی نے پریس کانفرنس کے دوران صرف بی جےپی کو ہی نشانہ پر رکھا اور ریاست میں اپنی حریف پارٹی سماجوادی پارٹی(ایس پی )کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ عوام کےلئے پریشانیاں ور دقتیں کھڑی کرکے بی جےپی آرام سے بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی جمہوری اتحاد(این ڈی اے)حکومت کا فیصلہ لوگوں کے حقوق کے خلاف ہے اور ملک مخالف ہے۔اس فیصلے نے ملک میں اقتصادی افراتفری کا ماحول پیدا کردیا ہے۔
      کالادھن اور بدعنوانی کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کے بی جےپی صدر سمت شاہ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے بی ایس پی کی صدر نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک کسی خاص شعبہ کےلئے کی جاتی ہے لیکن حکومت نے یہ حملہ ملک کے 125کروڑ وام پر کیا ہے جس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جےپی حکومت نے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کئے گئے وعدوں میں سے ایک چوتھائی باتوں کو بھی پورا نہیں کرسکی ہے۔اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے حکومت نے یہ بے تکا قدم اٹھا یا ہے۔
      First published: