உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی ضمنی الیکشن میں ایس پی کی حمایت کے بدلے ریٹرن گفٹ میں مایا وتی کو ملے گی راجیہ سبھا کی سیٹ !۔

    مایا وتی اور اکھلیش یادو ۔ فائل فوٹو

    مایا وتی اور اکھلیش یادو ۔ فائل فوٹو

    اترپردیش میں سیاست کی نئی بساط بچھتی ہوئی نظر آرہی ہے ، جس کی شروعات بہوجن سماج پارٹی نے کردی ہے ۔ اس نے گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کیلئے اپنے روایتی حریف سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔

    • Share this:

      لکھنو : اترپردیش میں سیاست کی نئی بساط بچھتی ہوئی نظر آرہی ہے ، جس کی شروعات بہوجن سماج پارٹی نے کردی ہے ۔ اس نے گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات کیلئے اپنے روایتی حریف سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اب مانا جارہا ہے کہ سماجوادی پارٹی بی ایس پی کو ریٹرن گفٹ دینے کی تیاری کررہی ہے ۔ ایس پی کے اعلی سطحی ذرائع کے مطابق پارٹی بی ایس پی سپریمو مایا وتی کو راجیہ سبھا امیدوار کے طور پر حمایت دینے کا ارادہ کرچکی ہے۔
      یوں تو مایا وتی آر جے ڈی کی جانب سے راجیہ سبھا جانے کی تجویز کو پہلے ہی خارج کرچکی ہیں ، لیکن اترپردیش کی سیاست میں تیزی سے ہوتی تبدیلی کے بعد اب سیاسی گلیاروں میں یہ بحث زور پکڑنے لگی ہے کہ بی ایس پی کی ایس پی کو حمایت کہیں نہ کہیں راجیہ سبھا انتخابات سے ہوتے ہوئے لوک سبھا انتخابات تک پہنچ رہی ہے۔
      در اصل اترپردیش میں راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں کیلئے الیکشن ہونا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں بی جے پی 8 اور ایس پی ایک سیٹ آسانی سے جیت جائے گی ، لیکن آخری دسویں سیٹ کیلئے بی جے پی اور اپوزیشن میں گھمسان ہونے کی پوری توقع ہے ۔ یہ ایک سیٹ جیت سے کہیں زیادہ بالادستی قائم کرنے کی لڑائی بنتی جارہی ہے۔
      اعدا د وشمار کی بات کریں تو بی جے پی اتحاد کے کھاتے میں آسانی سے آٹھ سیٹیں چلی جائیں گی اور اس کے بعد اس کے پاس 21 ممبران اسمبلی بچ جائیں گے ۔ سماجوادی پارٹی بھی ایک سیٹ آسانی سے جیت لے گی اور اس کے بعد اس کے پاس 9 ممبران اسمبلی بچ جائیں گے ۔ اب اگر کانگریس ، ایس پی اور بی ایس پی مشترکہ طور پر کوئی امیدوار اتارتی ہے تو ایس پی کے 9 ، بی پی ایس کے 19 اور کانگریس کے 7 ملاکر 35 ممبران اسمبلی ہوجائیں گے ۔ اس صورت میں جیت کیلئے مطلوبہ 38 تک آزاد امیدوار کی حمایت سے آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے ۔
      راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کیلئے حساب کتاب

      آٹھ سیٹوں پر جیت کے بعد بی جے پی اتحاد کے پاس بچیں گے 21 ممبران اسمبلی
      ایک سیٹ پر جیت کے بعد ایس پی کے پاس بچیں گے 9 ممبران اسمبلی
      اتحاد کی صورت میں بی ایس پی کے 19 ، کانگریس کے 7 اور ایس پی کے 9 کل ملاکر ہوتے ہیں 35 ممبران اسمبلی ۔
      تین آزاد اور لوک دل کا ایک ممبر اسمبلی اپوزیشن کے اتحاد کیلئے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

      First published: