ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مایاوتی نے بی جے پی اور ایس پی کو لیا آڑے ہاتھوں، اپنی پارٹی میں مچی افراتفری کی خبر کو بتایا بے بنیاد

نئی دہلی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت اور یوپی حکومت پر حملہ بولا۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jun 28, 2016 02:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مایاوتی نے بی جے پی اور ایس پی کو لیا آڑے ہاتھوں، اپنی پارٹی میں مچی افراتفری کی خبر کو بتایا بے بنیاد
نئی دہلی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت اور یوپی حکومت پر حملہ بولا۔

نئی دہلی۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج ایک بار پھر مرکزی حکومت اور یوپی حکومت پر حملہ بولا۔ مایاوتی نے مرکزی حکومت کو کالے دھن پر گھیرا تو اکھلیش حکومت کو قانون وانتظام کی صورت حال کے نام پر۔ ساتھ ہی انہوں نے پارٹی میں مچی افرا تفری کی خبروں کو بے بنیاد بتایا۔


مایاوتی نے مرکز کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم انتخابات قریب آنے سے یہاں آکر ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ عوام کو یہ بھی بتائیں کہ جب بی جے پی اتر پردیش میں اقتدار میں تھی تو انہوں نے اتر پردیش کو ترقی سے کس قدر ہمکنار کیا تھا۔ بی جے پی نے کالا دھن لاکر 15-20 لاکھ روپیہ لوگوں کے اکاؤنٹ میں دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 2 سال گزر جانے پر بھی لوگوں کے اکاؤنٹ میں پیسہ نہیں دینے کا کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتایا ہے۔


یوپی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت میں پھیلی جنگل راج یہاں مسئلہ کی اصل وجہ ہے۔ بی جے پی قیادت یہاں کے قانون وانتظام پر نہیں بولتی ہے ۔ بی جے پی کی قیادت میں دہلی کی قانون وانتظام کی صورت حال بہت خراب ہے۔ دہلی میں جو اتر پردیش سے بہت چھوٹا ہے بی جے پی حکومت قانون کو نہیں سنبھال پائی ہے۔


قانون وانتظام کے معاملے پر ایس پی حکومت کو گھیرتے ہوئے مایا نے کہا کہ پوری ریاست کے عوام پریشان ہیں۔ قاتلوں کا پولیس سے خوف چلا گیا ہے، پولیس پر حملہ ہونے لگا ہے۔ جب پولیس محفوظ نہیں ہے تو عام آدمی کس طرح محفوظ رہے گا۔ مختار انصاری کی پارٹی کے انضمام کو لے کر ڈرامہ کیا گیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کی حکومت کو اپنی کابینہ سے تمام جرائم قسم کے لوگوں کو  باہر نکال دینا چاہئے۔ سماج وادی پارٹی کے تمام مجرمانہ لوگوں کو جیل میں بھیج دینا چاہئے۔ ایس پی ایسا نہیں کر سکتی، نہیں تو جیلیں کم پڑ جائیں گی۔
First published: Jun 28, 2016 02:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading