உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای ڈی کی چھاپہ ماری سے بڑھ سکتی ہیں مایاوتی کی مشکلیں، بھائی آنند کمار بھی مصیبت میں

     دہلی کے قرول باغ میں یونین بینک کی شاخ میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا اکاؤنٹ ملا۔

    دہلی کے قرول باغ میں یونین بینک کی شاخ میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا اکاؤنٹ ملا۔

    دہلی کے قرول باغ میں یونین بینک کی شاخ میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا اکاؤنٹ ملا۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لحاظ سے بھائی پر بے نامی جائیداد کا الزام مایاوتی کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ دہلی کے قرول باغ میں یونین بینک کی شاخ میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) صدر مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا اکاؤنٹ ملا۔ اس اکاؤنٹ میں نوٹ بندی کے بعد 1 کروڑ 43 لاکھ روپے جمع کرائے گئے۔ اسی شاخ میں مایاوتی کی پارٹی بی ایس پی کا بھی اکاؤنٹ ملا ہے جس میں نوٹ بندی کے بعد 104 کروڑ روپے جمع کرائے گئے۔ یہ رقم مایاوتی کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ اب انہیں ای ڈی کو اس کا ذریعہ بتانا ہوگا۔ یوپی میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہ صورت حال مایاوتی کے لئے مفید نہیں ہو گی۔ اب تک نوٹ بندی پر جارحانہ رویہ اختیار کرنے والی مایاوتی کو اسے لے کر صفائی دینا پڑے گی۔ ان پر پہلے ہی آمدنی سے زیادہ جائیداد کا معاملہ چل رہا ہے۔

      بتایا جاتا ہے کہ مایاوتی کی حکومت کے وقت آنند کمار 50 کمپنیوں کے مالک تھے۔ خبروں پر یقین کریں تو نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور جمنا کے علاقے میں جتنے بھی بلڈروں کو بی ایس پی دور میں زمین الاٹ ہوئی تھی، اس میں آنند کمار کا ہی بالواسطہ طور پر رول بتایا گیا تھا۔ اس میں کئی افسران بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق مغربی اتر پردیش میں کون افسر تعینات ہو گا، اس میں بھی آنند کمار کی ہی مداخلت رہتی تھی۔

      واضح رہے کہ مایاوتی پر بھی آمدنی سے زیادہ جائیداد کا معاملہ چل رہا ہے۔ مایاوتی نوٹ بندی کے معاملے پر حکومت کے خلاف ہیں۔ وہ مسلسل اس فیصلے پر مرکزی حکومت کے خلاف حملے بول رہی ہیں اور اسے اقتصادی ایمر جنسی بھی بتا چکی ہیں۔ اب بھائی پر بے نامی جائیداد کے الزام کے بعد مایاوتی منگل دوپہر 12 بجے پریس کانفرنس کریں گی۔ اس میں مایاوتی صفائی تو دیں گی ہی، نئے سرے سے وزیر اعظم مودی پر حملہ بھی بول سکتی ہیں۔
      First published: