உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے مسلمانوں کو دلتوں کے ساتھ مل کر کھڑا ہونا پڑے گا: مایاوتی

    بی ایس پی صدر نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے وزیر اعظم نے نوٹ بند ی کا فیصلہ لیا اور اب وہی ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔

    بی ایس پی صدر نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے وزیر اعظم نے نوٹ بند ی کا فیصلہ لیا اور اب وہی ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔

    بی ایس پی صدر نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے وزیر اعظم نے نوٹ بند ی کا فیصلہ لیا اور اب وہی ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔ اترپردیش میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے مدنظر اپنی سیاسی مہم کو تیز کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے آج کہا کہ فرقہ ورانہ طاقتوں کو صوبہ میں اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے مسلمانوں کو دلتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ محترمہ مایاوتی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ مسلمان اگر دلتوں کے ساتھ مل کر بی ایس پی کو ووٹ دیتے ہیں تو الیکشن میں بی جے پی کو آسانی سے شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے دعو ی کیا کہ ریاست میں بی ایس پی کا اصل ووٹ بینک(دلت) تقریباً 25 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے ہر اسمبلی علاقہ میں تقریباً پچاس ساٹھ ہزار ووٹ دلتوں کا ہے۔ اس میں اگر مسلمان اور  دیگر ذاتوں کا ووٹ شامل ہوجائے تو بی ایس پی کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔


      انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سماج وادی پارٹی کا اصل ووٹ بینک (یادو) کی آباد ی صرف پانچ چھ فیصد ہے۔ تقریباً ساٹھ اسمبلی حلقو ں میں یہ ذات فیصلہ کن پوزیشن میں ہے ۔ اس کے باوجود اگر کوئی بڑا ووٹ بینک سماج وادی پارٹی کو نہیں ملتا ہے حکومت بنانا تو دور اس کے امید واروں کے لئے ضمانت بچانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ عوام سماج وادی پارٹی کے جانبدارانہ ترقی اور جنگل راج سے پریشان ہے اور بی جے پی سے نوٹ بندی کی وجہ سے ناراض ہے۔ اس لئے بی ایس پی کا پلڑا بھاری ہے۔ بی ایس پی صدر نے کہا کہ جس طرح بہار میں سیکولر ووٹروں نے متحد ہوکر بی جے پی کو ہرایا اسی اتحاد کے ساتھ یوپی میں بی ایس سے مل کر یہ طاقتیں بی جے پی کو شکست دیں گی۔ تاکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ پہنچائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سما ج وادی پارٹی حکومت آتے ہی بی جے پی مضبوط ہوجاتی ہے اور بی ایس پی کی حکومت آنے پر بی جے پی کمزور ہوتی ہے۔ سال 2009میں بی ایس پی کے دور اقتدار میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی کے صرف نو ممبر پارلیمنٹ کامیاب ہوئے تھے جب کہ 2014 میں یوپی سے بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کی تعداد بڑھ کر 73 ہوگئی۔ مسلمانوں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔
      محترمہ مایاوتی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ انہوں نے بی جے پی سے مل کر دو مرتبہ حکومت بنائی لیکن اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ سما ج وادی پارٹی تو بی جے پی کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ کرکے الیکشن لڑ لیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سما ج وادی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ مل کر سماج وادی پارٹی مسلم ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کانگریس کے ساتھ اتحاد کی خبریں پھیلا رہی ہے۔ ملائم سنگھ یادو اور ان کے خاندان کو آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے کی جانچ کا ڈر دکھا کر بی جے پی من مانے سیاسی فیصلے کروارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اقتدار میں مسلمانو ں کی سلامتی حکومت کی ترجیحات میں تھیں جب کہ سماج وادی پارٹی کے دور میں سینکڑو ں فسادات ہوئے جس میں مظفر نگر فسادات کو شاید ہی کوئی بھول سکے گا۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اپنے سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی مسلمانو ں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔مودی حکومت نے ڈھائی سال میں عوامی مفاد کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔ نوٹ بندی کا فیصلہ جلد بازی میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے کسان، غریب او رمزدور بے حال ہے ۔نوٹ بندی سے ہونے والی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے وزیر صوبے میں مسلسل پروگرام کررہے ہیں لیکن عوام انہیں معاف کرنے والی نہیں ہے۔


      بی ایس پی صدر نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کے لئے وزیر اعظم نے نوٹ بند ی کا فیصلہ لیا اور اب وہی ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔الیکشن میں جیت کے لئے بی جے پی چاہتی ہے کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا اتحاد کروادیا جائے جس سے مسلم ووٹر گمراہ ہوسکیں۔ انہو ں نے کہا کہ سما ج وادی پارٹی کی شناخت غنڈوں، بدمعاشوں اور سماج دشمن عناصر کو تحفظ فراہم کرنے والے کے طور پر ہوگئی ہے ۔ سماج وادی پارٹی میں جاری برتری کی جنگ سے بی ایس پی کو فائدہ ہوگا۔

      First published: