ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مودی کا ریموٹ سنگھ کے ہاتھ میں، عام آدمی کے مسائل سے انہیں کوئی سروکار نہیں: مایاوتی

لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے آج کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ مرکز کی نریندر مودی سرکار کا ریموٹ کنٹرول راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہاتھ میں ہے اور دونو ں کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 06, 2015 04:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مودی کا ریموٹ سنگھ کے ہاتھ میں، عام آدمی کے مسائل سے انہیں کوئی سروکار نہیں: مایاوتی
لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے آج کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ مرکز کی نریندر مودی سرکار کا ریموٹ کنٹرول راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہاتھ میں ہے اور دونو ں کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے آج کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ مرکز کی نریندر مودی سرکار کا ریموٹ کنٹرول راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہاتھ میں ہے اور دونو ں کو عام آدمی کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

محترمہ مایاوتی نے کہا کہ وزیر اعظیم نریندر مودی نے آر ایس ایس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور اس کے اشارہ پر ناچ رہے ہیں کیونکہ سرکار کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔

انہوں نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ مرکزی سرکار کو آئین اور عوام کے تئیں جوابدہ ہونا چاہئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ وزیراعظم اور مرکزی وزراء آر ایس ایس کے تئیں جواب دہ ہیں اور اپنے کام کاج کی رپورٹ آر ایس ایس کو پیش کرتے ہیں۔ آر ایس ایس مرکز کے کام کاج پر نمبر دیتا ہے جو اپنے آپ میں ایک خطرناک مذاق ہے۔ مودی سرکار کو اپنے کام کاج پر عوام سے نمبر لینا چاہئے کیونکہ مسٹڑ مودی کو عوام نے منتخب کیا ہے آر ایس ایس نے نہیں۔


بی ایس پی کی سربراہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو یاد دلایا کہ وہ ہمیشہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر اس وجہ سے تنقید کرتی تھی کہ ان کی حکومت سونیا گاندھی کی رہائش گاہ دس جن پتھ کے اشارہ پر چل رہی ہے۔ اب مسٹر نریندر مودی کی حکومت بھی آر ایس ایس کے اشارہ پر چل رہی ہے۔ مسٹر مودی بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے راستہ پر چل رہے ہیں اور دونوں کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر سرکار نے عوام کے نمائندوں کے خلاف لکھنے بولنے پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ کرنے جیسا نیا حکم جاری کیا ہے۔ یہ بی جے پی کی ہٹلر شاہی کا ثبوت ہے اور سبھی کو اس کی مخالفت کرنا چاہئے۔
محترمہ مایاوتی نے سابق فوجیوں کے لئے ایک رینک ایک پنشن پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اسے نہایت جلد بازی میں لاگو کیا جارہا ہے۔ سابق فوجی پچھلے تین مہینہ سے دہلی میں جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن حکومت کو ان سے بات کرنے کا خیال نہیں آیا۔ سرکار نے اسے بے دلی سے لاگو کیا جس کی وجہ سے فوجی غیر مطمئن ہیں۔
بی ایس پی کی سربراہ نے بہار کے شہر بودھ گیا کو بین الاقوامی شکل دینے کے لئے مرکزی حکومت سے وہاں سہولتوں کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کل بودھ گیا پہنچے لیکن اس علاقہ کی ترقی کے لئے کوئی اعلان نہیں کیا۔
First published: Sep 06, 2015 04:34 PM IST