உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے الیکشن کمیشن سے انتخابی سروے پر روک لگانے کا کیا مطالبہ

    Youtube Video

    بی ایس پی سربراہ مایاوتی (mayawati) نے الیکشن کمیشن (Election Commission) سے انتخابی سروے پرروک لگانے کا کیا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے چھ مہینے پہلےسروے پرروک لگائی جائے۔

    • Share this:
      بی ایس پی سربراہ مایاوتی (mayawati) نے الیکشن کمیشن (Election Commission) سے انتخابی سروے پرروک لگانے کا کیا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے چھ مہینے پہلےسروے پرروک لگائی جائے۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کرتےہوئے بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمومایاوتی نے کہا کہ انتخاب سے قبل سروے پر روک لگانے کے لئے وہ جلد ہی الیکشن کمیشن کو خط لکھیں گی۔ پارٹی فاونڈر کانشی رام کے 15ویں برسی کی مناسب سے منعقد خراج عقیدت ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے سنیچر کو کہا کہ کچھ لوگ بی ایس پی کو کمزور ہونے کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں حالانکہ ان کی غلط فہمی آج کی ریلی کو دیکھ کر دور ہوگئی ہوگی۔ اگلے سال اترپردیش میں حکومت بنانے کا دعوی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو کانگریس، بی جے پی، سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے ہوا ہوائی دعوؤں سے محتاط رہنا چاہئے جن میں ذرا بھی دم نہیں ہے۔ قانونی کی حکمرانی اور شفاف حکومت صرف بی ایس پی دے سکتی ہے جو سماج کے سبھی طبقات کے لئے کام کرے گی۔
      غریب مزدوروں کےعلاوہ برہمنوں اور مسلموں کی سیکورٹی اور احترام کا پورا خیال رکھا جائےگا۔ حکومت بننے پر غریب اور سبھی بے روزگار کو روزی۔ روٹی کے وسائل دستیاب کرانے کو اولین ترجیح دی جائے گی اور پارٹی اسی ایجنڈے کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی عوام نے بی جے پی، ایس پی اور کانگریس کا ناٹک دیکھ لیا ہے۔ بی ایس پی کے لوگ بھی ان کے ناٹک، ہتھکنڈوں سے محتاط رہیں۔ 2007 میں بی ایس پی نے مکمل اکثریت کی حکومت بننے پر ریاست کو بہترین نظم ونسق دیا تھا۔ ان کی اپیل ہے کہ اس بار عوام بی جے پی کے جھوٹے وعدے اور لالچ میں آخر اپنا ووٹ خراب نہ کریں۔
      مایاوتی نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر مختلف چینلوں اور ایجنسیوں کے انتخاب سے قبل سروے پر روک لگانے کا مطالبہ کریں گی۔ عوام کو ان سروے سے گمراہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بنگال اور دہلی کے انتخابی نتائج ایسے سرویز کو غلط ثابت کرچکے ہیں۔
      مایاوتی نے کہا کہ یوپی کی اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ان کی حکومت بدلے کے جذبے سے کام نہیں کرے گی اور مرکزی و سابقہ ریاستی حکومتوں کی پروجکٹوں کو وقت سے پورا کرایا جائےگا۔ اجودھیا، وارانسی اور متھرا میں جاری ترقیاتی کاموں کو تیزی سے پورا رکرایا جائے گا۔
      ایم آئی ایم اور بھیم آرمی کا نام لئے بغیر انہوں نےکہا کہ ریاست میں کچھ ایسی بھی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں ہیں جو تنہا یا اتحاد کر کے انتخابات میں شرکت کرسکتی ہیں۔ ان کا مقصد انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ اپنے مفاد کے لئے پردے کے پیچھے سے خاص کر حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ یہ چھوٹی پارٹیاں ان کے حساب سے اپنے امیدوار کھڑے کرتی ہیں۔ اس لئے ایسی پارٹیوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سماج وادی پارٹی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ایک ایسی پارٹی بھی ہے جو مفاد پرستوں اور ٹکٹ حاصل کرنے والوں کو شامل کر کے اپنا کنبہ بڑھا رہی ہے۔
      بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ مغربی اترپردیش میں جاٹ اور گرجر سماج کو اپنی جانب مائل کرنے لئے بی جے پی کو ان کے سماج کے راجاؤں کی مورتیاں لگانی پڑرہی ہیں اور یونیورسٹیوں کی تعمیرکرانی پڑرہی ہے۔
      اس سے پہلے مایاوتی نے کانشی رام اسمارک استھل پہنچ کرانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےگلپوشی کی۔ اس دوران لاکھوں لوگوں کی بھیر ہاتھوں میں نیلے جھنڈے لےکر انہیں سننے کو بے قرار دکھی۔قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل مایاوتی نے کانشی رام کی برسی کو پورے دھوم دھام سے منانے کا اعلان کیا تھا
      Published by:Sana Naeem
      First published: