ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیرانہ کے تعلق سے کشیدگی پھیلانے کی سازش، بی جے پی کا واضح ایجنڈا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا ہے: مایاوتی

لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اترپردیش میں شاملی کے کیرانہ سے ہندو خاندانوں کے نقل مکانی کے جھوٹے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پرشدید حملہ کرتے ہوئے اسے ریاستی اسمبلی کے لئے ہونے والے آئندہ انتخابات سےقبل کشیدگی پھیلانے کی سازش قرار دیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 14, 2016 05:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کیرانہ کے تعلق سے کشیدگی پھیلانے کی سازش، بی جے پی کا واضح ایجنڈا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا ہے: مایاوتی
لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اترپردیش میں شاملی کے کیرانہ سے ہندو خاندانوں کے نقل مکانی کے جھوٹے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پرشدید حملہ کرتے ہوئے اسے ریاستی اسمبلی کے لئے ہونے والے آئندہ انتخابات سےقبل کشیدگی پھیلانے کی سازش قرار دیا۔

لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اترپردیش میں شاملی کے کیرانہ سے ہندو خاندانوں کے نقل مکانی کے جھوٹے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پرشدید حملہ کرتے ہوئے اسے ریاستی اسمبلی کے لئے ہونے والے آئندہ انتخابات سےقبل کشیدگی پھیلانے کی سازش قرار دیا۔ محترمہ مایاوتی نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا، " ریاست کی حکمراں سماج وادی پارٹی (ایس پی) بی جے پی کے الزامات کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے لیکن ان کے فرضی الزامات کی اصلیت بتاکر میڈیا نے اس سازش کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لئے اپنی مہم کے آغاز کی غرض سے بی جے پی نے الہ آباد میں اپنی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ منعقد کی اور اس کا واضح ایجنڈا ریاست میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانا ہے۔ بی جے پی نے اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لئے کیرانہ مسئلہ اٹھایا۔ خوش قسمتی سے میڈیا نے ان کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔


بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ بندیل كھنڈ اور اتر پردیش کے دیگر مقامات سے مرکز اور ریاستی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ ریاست میں امن و قانون کی صورت حال بدتر ہے جس سے لوگ پریشان ہیں۔ اس بدحالی کے لئے تنہا ایس پی حکومت ہی نہیں بلکہ بی جے پی اور کانگریس بھی ذمہ دار ہیں۔ اتر پردیش کی قابل رحم حالت کے لئے ایس پی حکومت کے ساتھ بی جے پی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا، "اگر بی جے پی کو ریاست کے امن و قانون کی خراب صورت حال کی اتنی ہی فکر ہے تو اس نے کبھی ریاست میں صدر راج نافذ کئے جانے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی کے بی ایس پی اور ایس پی کے درمیان ریاست کے اقتدار کے لئے اتحاد کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے محترمہ مایاوتی نے کہا کہ مسٹر مودی کو اس بارے میں اپنی معلومات درست کر لینی چاہئے۔ انہوں نے کہا، "ہماری سابقہ حکومت نے ملائم سنگھ یادو کے دور میں ہوئی پولیس بھرتی اور دیگر گھپلوں پر کارروائی کی۔ لیکن یہ معاملے اب بھی عدالت میں زیر التوا ہیں۔ "


دریں اثنا، بی جے پی کی اترپردیش کی شاخ نے کیرانہ کے تعلق سے محترمہ مایاوتی کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور الہ آباد میں کل مسٹر مودی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو درست بتایا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ مایاوتی نے اپنے اوپر عائد بدعنوانی کے الزامات پر کبھی درست جواب نہیں دیا۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان وجے بہادر پاٹھک نے کہا کہ کیرانہ سے نقل مکانی کی خبروں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھاگنے والوں کے تئیں ہمدردی رکھنے کی بجائے ایس پی اور بی ایس پی ووٹ کی سیاست کرنے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ محترمہ مایاوتی کو الزام لگانے سے پہلے حقائق کا پتہ لگانا چاہئے۔ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہےلیکن ایسا ہوا ہے اس سے کوئی نہیں انکار کر سکتا ۔

First published: Jun 14, 2016 05:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading