உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریستوراں میں ملنے والا گوشت "حلال" یا "جھٹکا" والا ہے، اس کو واضح کیاجائے: ایم سی ڈی کی تجویز

    ایم سی ڈی کا دعوی ہے کہ ہندو اورسکھ مذہب میں "حلال" گوشت کھانے کی اجازت نہیں ہے۔

    ایم سی ڈی کا دعوی ہے کہ ہندو اورسکھ مذہب میں "حلال" گوشت کھانے کی اجازت نہیں ہے۔

    • Share this:
      مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کی ایک کمیٹی نے تجویزپیش کی ہے کہ مقامی باڈی کے دائرہ اختیارمیں آنےوالے گوشت بیچنے والے سبھی ریستوراں اورگوشت تاجروں کے لئے بورڈ پریہ واضح کرنا لازمی ہونا چاہئے کہ گوشت "حلال" ہے یا "جھٹکا" کا ہے۔

      بی جے پی کی قیادت والے دہلی میونسپل کارپوریشن کی مستقل کمیٹی نے جمعرات کواس متعلق ایک تجویز پیش کی۔ پینل کے فیصلہ کو دہلی میونسپل کارپوریشن کی اجازت ملنے کے بعد میونسپل کارپوریشن کمشنرکے نافذ کرنے کا انتظارہے۔

      یہ تجویزکئی امورپرمنحصرہے، جس میں مشرقی دہلی میں ہندواورسکھ مذہب کے بہت سارے لوگ رہتے ہیں اورگوشت کو فروخت کرنے والے اس علاقے میں بہت سارے ریستوراں ہیں، جیسی بات بھی شامل ہے۔ تجویزمیں دہلی کارپوریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ "حلال" کیا ہوا گوشت کھانے کی اجازت ہندواورسکھ  مذہب میں نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مذہب اسلام میں بھی "جھٹکا" والا گوشت کھانا حرام ہے۔

      تجویزمیں کہا گیا ہے کہ مستقل کمیٹی یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ گوشت فروخت کرنے والے گوشت تاجروں یا عوام کے لئے کھانے  والے ریستوراں کو اپنے بورڈ میں یہ لکھنا لازمی ہونا چاہئے کہ ان کے ذریعہ فروخت کئے جارہے  یا ریستوراں میں ملنے والا گوشت "حلال" یا "جھٹکا" کا ہے۔  دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذرائع نے بتایا کہ کچھ گوشت تاجراورریستوراں بورڈ پراسے واضح طور پرلکھتے ہیں، لیکن سبھی ایسا نہیں کرتے ہیں، اس لئے اس کو لازمی کیاجائے۔
      First published: