உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Navratri: نوراتری کے دوران گوشت پر پابندی تو رمضان میں شراب ممنوع! کیا غذا بھی اب سیاسی آلہ بن رہی ہے؟

    Youtube Video

    ملک میں کیے گئے آزادانہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کی اکثریت غیر سبزی خور ہے، وہیں گوشت کھانے والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے، حالانکہ وہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی طرح کی پابندیوں پر عمل بھی کرتے ہیں۔ جنوبی اور مشرقی دہلی کے میئروں نے منگل کے روز اپنے دائرہ اختیار میں گوشت کی دکانوں کو نوراترای کے دوران بند رکھنے کے لیے کہا ہے۔

    • Share this:
      حجاب (Hijab) کے بعد کھانے کے انتخاب اور غذائی عادات کو سال 2022 میں ہندوستان میں مخصوص سیاست کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ نوراتری تہوار (Navratri festival) کے نو دنوں کے دوران نان ویجیٹیرین کھانوں (non-vegetarian food) کی فروخت پر ’پابندی‘ لگانے کے جنوبی اور مشرقی دہلی کے میئرز کے حالیہ فیصلے نے اس معاملے پر ملک گیر تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

      ملک میں کیے گئے آزادانہ سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کی اکثریت غیر سبزی خور ہے، وہیں گوشت کھانے والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے، حالانکہ وہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی طرح کی پابندیوں پر عمل بھی کرتے ہیں۔ جنوبی اور مشرقی دہلی کے میئروں نے منگل کے روز اپنے دائرہ اختیار میں گوشت کی دکانوں کو نوراترای کے دوران بند رکھنے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ نو دنوں تک نان ویجیٹیرین کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ شہری اداروں کی طرف سے کوئی سرکاری حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے بیانات کے بعد قومی راجدھانی دہلی کے ان علاقوں میں کئی گوشت کی دکانوں کے مالکان نے حکام کی کارروائی کے خوف سے اپنی دوکانیں بند رکھی۔

      تاہم شہر کے کچھ بازاروں میں بہرحال منگل کے روز گوشت فروخت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہفتے کے اس دن کو بہت سے ہندوؤں کی طرف سے مبارک سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (SDMC) اور مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن (EDMC) کے میئروں نے نو روزہ تہوار کے دوران ان دکانوں کو بند کرنے کی کال کی ہے، لیکن شمالی کارپوریشن کی طرف سے ایسا کوئی لفظ نہیں آیا ہے۔ دونوں جگہ بھی بی جے پی کے میئر ہیں۔

      ایس ڈی ایم سی کے دائرہ اختیار میں تقریباً 1500 رجسٹرڈ گوشت کی دکانیں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب شہری ادارہ نے 2 اپریل سے منائے جانے والے نوراتری کے دوران اپنے دائرہ اختیار میں گوشت کی دکانوں کو بند کرنے کو کہا ہے۔

      مزید پڑھیں: Nawaz Sharif attacked: لندن میں سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف پر حملہ، گارڈ زخمی

      تنازعہ آگ کی طرح پھیل رہا ہے؟

      مارچ میں غازی آباد کے لونی کے دوبارہ منتخب ہونے والے ایم ایل اے نند کشور گجر نے ایک اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ رام راجیہ میں گوشت کی دکانوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ حکام سمجھیں، لونی میں گوشت کی ایک بھی دکان نظر نہیں آنی چاہیے... یہاں لونی میں رام راجیہ [ہندو دیوتا رام کا راج] ہے۔ کیا آپ نے کبھی رام راجیہ میں گوشت کی دکان دیکھی ہے؟ بس دودھ اور گھی کھاؤ اور اگر تمہارے پاس گائے نہیں ہے تو میں تمہیں ایک بھیج دوں گا۔

      مزید پڑھیں: Imran Khan نے ہر ہتھکنڈہ فیل ہونے پر کھیلا غیرملکی سازش کا داؤ، ایسے دی اپوزیشن کو شکست

      غازی آباد نگر نگم نے 2 اپریل سے 10 اپریل تک کچے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ حکام کے مطابق یہ تہوار کے دوران گوشت پر پابندی ایک معمول کا حکم ہے۔ حکم نامے میں لکھا گیا کہ میئر کی طرف سے مندروں میں صفائی برقرار رکھنے اور اس مدت کے دوران گوشت کی دکانیں بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ہدایت دی گئی ہے کہ متعلقہ زونز، مندروں میں صفائی ستھرائی کو برقرار رکھا جائے اور گوشت کی دکانیں بند رہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: