ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ: بورڈ انتظامیہ کی لاپرواہی، طالبات کے لیے مخصوص امتحان سینٹر پر امتحان دینے کے لیے مجبور طالب علم

اترپردیش مدرسہ شکشا پریشد کے زیر اہتمام ہونے والے مدرسہ بورڈ کے امتحانات کی آج سے شروعات ہو گئی ہے۔

  • Share this:
میرٹھ: بورڈ انتظامیہ کی لاپرواہی، طالبات کے لیے مخصوص امتحان سینٹر پر امتحان دینے کے لیے مجبور طالب علم
میرٹھ: بورڈ انتظامیہ کی لاپرواہی، طالبات کے لیے مخصوص امتحان سینٹر پر امتحان دینے کے لیے مجبور طالب علم

میرٹھ ۔ اترپردیش مدرسہ شکشا پریشد کے زیر اہتمام ہونے والے مدرسہ بورڈ کے امتحانات کی آج سے شروعات ہو گئی ہے۔ منشی، مولوی، کامل، عالم اور فاضل درجات کے ان امتحانات کے لئے میرٹھ منڈل میں ١١ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ شہر میں تین سینٹر قائم کیے گئے ہیں جن میں دو سنٹر مدارس میں اور ایک انٹر کالج میں قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے تین میں سے دو مراکز طالبات کے لئے مخصوص ہیں۔


انتظامات کو بہتر کرنے کے تمام دعووں کے باوجود یو پی مدرسہ بورڈ کی لاپرواہی کہیں نہ کہیں اجاگر ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ آج میرٹھ میں مدرسہ بورڈ امتحان کے پہلے روز ہی امتحان سنٹر منصبیہ عربی کالج میں بھی نظر آیا جہاں لسٹ اور  نام سلپ کے جنسیت کے خانے میں میل کی جگہ فیمیل ہو جانے سے ایک طالب علم کا امتحان سنٹر تبدیل ہو گیا، وہیں، طالبات کے لئے مخصوص امتحان مرکز پر طالبات کے ساتھ بیٹھ کر ہی اس طالب علم کو پرچہ حل کرنا  پڑا ۔ امتحان سنٹر کے ایڈمنسٹریٹر اور منصبیہ عربی کالج کے پرنسپل کے مطابق لسٹ اور سلپ تیار کرنے میں لاپرواہی کس سطح پر ہوئی یہ تو معلوم نہیں لیکن گزشتہ سال بھی اس طرح کے کئی معاملے سامنے آئے تھے اور عین وقت پر سنٹر تبدیل کر دیے جانے سے طلبا کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ساتھ ہی غیر حاضر درج ہونے سے نتائج بھی درست نہیں رہے۔ ایسے میں گزشتہ سال کی پریشانیوں سے بچنے کے لئے طالب علم کو طالبات کے لئے مخصوص مرکز پر ہی امتحان دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔


طالبات کے لئے مخصوص امتحان مرکز پر طالبات کے ساتھ بیٹھ کر ہی ایک طالب علم کو پرچہ حل کرنا پڑا


منشی، مولوی، کامل، عالم اور فاضل درجات کے لئے اس سال میرٹھ  میں ٤١٥١ طلبا اور طالبات نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ میرٹھ کے مختلف مراکز پر امتحان میں شامل ہونے والے طلبا اور طالبات کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے اس سال کم رہی وہیں پہلی شفٹ میں تقریباً  ٣٠ فیصد طلباء اور  طالبات غیر حاضر رہے ۔ محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ذمہ دار افسران کے مطابق، سبھی مراکز پر نگرانی کے پختہ انتظامات کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی امتحان میں شامل ہونے والے طلبا اور طالبات کی سہولیات کے لئے بہتر انتظامات کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ اس سال  یوپی بورڈ کے امتحانات کے بھی ساتھ ہونے سے نگران اسٹاف کے انتظامات کو لے کر کچھ پریشانیوں کا سامنا ضرور کرنا پڑا ہے۔

 
First published: Feb 25, 2020 06:06 PM IST