ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قبرستان کے دروازوں پر لگائے تالے، برادری کے قبرستانوں میں غیر برادری کے جنازوں کی تدفین کی اجازت نہیں

ایسے میں لوگ میتوں کی تدفین کے لیے دوسرے قبرستانوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن برادری کے ان قبرستانوں کے دروازے غیر برادری کے جنازوں کے لیے بند کر دیے جانے سے لوگوں کو کافی پرشانی ہو رہی ہے۔

  • Share this:
قبرستان کے دروازوں پر لگائے تالے، برادری کے قبرستانوں میں غیر برادری کے جنازوں کی تدفین کی اجازت نہیں
ایسے میں لوگ میتوں کی تدفین کے لیے دوسرے قبرستانوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن برادری کے ان قبرستانوں کے دروازے غیر برادری کے جنازوں کے لیے بند کر دیے جانے سے لوگوں کو کافی پرشانی ہو رہی ہے۔

ایک طرف کورونا وبا کے قہر سے اموات کی تعداد بڑھ جانے کے سبب شہر کے پنچایتی قبرستانوں پر اضافی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ وہیں شہر میں مختلف مسلم برادریوں کے نام سے منسوب قبرستانوں میں غیر برادری کی میت دفن ہونے سے روکنے کے تالے لگا دیے جانے سے اس مشکل حالات میں لوگوں کے لیے اور بھی پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔ میرٹھ میں قبرستان حضرت بالے میاں قبرستان حاجی صاحب قبرستان شاہ ولایت اور قبرستان چشتی صاحب جیسے چہ ایسے قبرستان ہیں جہاں سبھی مسلم برادری کی میتیں دفن ہوتی ہیں لیکن کورونا وبا سے ہو رہی اموات کے سبب ان قبرستانوں پر تدفین کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں جگہ بھی کم پڑ رہی ہے ۔


ایسے میں لوگ میتوں کی تدفین کے لیے دوسرے قبرستانوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن برادری کے ان قبرستانوں کے دروازے غیر برادری کے جنازوں کے لیے بند کر دیے جانے سے لوگوں کو کافی پرشانی ہو رہی ہے۔ مصیبت کے ان حالات میں جنازوں کی تدفین کے لیے پریشانی کو دیکھیے ہوئے اب مسلم سماج کے مقامی ذمہ داران اور قبرستانوں کے منتظمین نے برادری قبرستانوں کے ذمہ داران سے قبرستانوں کے دروازے سب برادری کے لوگوں کے لیے کھولنے کی اپیل کی ہے۔


میرٹھ کے سب سے بڑے پنچایتی قبرستان حضرت بالے میاں انتظامیہ کمیٹی کے زمہ دار اور درگاہ کے متولی مفتی اشرف بتاتے ہیں کہ عام دِنوں میں قبرستان میں 5 سے 7 جنازے تدفین کے لیے آتے تھے لیکن گزشتہ 15 سے 20 دِنوں میں یہ تعداد 25 سے 30 تک پہنچ گئی جسکی وجہ سے قبرستان پر نہ صرف اضافی بوجھ بڑھا بلکہ جگہ کم پڑنے پر مٹّی ڈلوانے تک کی نوبت آ گئی ہے ایسے میں برادری کے قبرستانوں کا تالا کھول دیے جانے سے لوگوں کی مشکل آسان ہوگی

Published by: Sana Naeem
First published: May 11, 2021 12:46 PM IST