ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : طبی نظام کی حالت بد سے بدتر ، اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈ سے لیکر آکسیجن اور وینٹی لیٹر تک دستیاب نہیں

Meerut News : لالا لاجپت رائے میڈیکل کالج میں مریضوں کے اضافی بوجھ کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی کو بھی کووڈ وارڈ بنانے کی نوبت آ گئی ہے ۔ انفیکشن کے ایسے مریضوں کو تعداد زیادہ ہے ، جن کو ایمرجنسی میں آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ مجبوری میں ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے ۔

  • Share this:
میرٹھ : طبی نظام کی حالت بد سے بدتر ، اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈ سے لیکر آکسیجن اور وینٹی لیٹر تک دستیاب نہیں
میرٹھ : طبی نظام کی حالت بد سے بدتر ، اسپتالوں میں مریضوں کیلئے بیڈ سے لیکر آکسیجن اور وینٹی لیٹر تک دستیاب نہیں

میرٹھ : ایک طرف کورونا وبا کی دوسری لہر لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے تو وہیں انفیکشن کے مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے نے میڈیکل سسٹم کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ حالات یہ ہیں کہ اب زیادہ تر اسپتالوں میں مریضوں کو بھرتی  کرنے کی جگہ بھی نہیں بچی ہے ۔ یہی حال میرٹھ کا بھی ہے ، جہاں سرکاری سے لیکر پرائیویٹ اسپتالوں تک میں مریضوں کے لیے بیڈ بھی دستیاب نہیں ہیں۔


لالا لاجپت رائے میڈیکل کالج میں مریضوں کے اضافی بوجھ کو دیکھتے ہوئے ایمرجنسی کو بھی کووڈ وارڈ بنانے کی نوبت آ گئی ہے  ۔ انفیکشن کے ایسے مریضوں کو تعداد زیادہ ہے ، جن کو ایمرجنسی میں آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ مجبوری میں ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے ۔ شہر کے کووڈ وارڈ والے  پرائیویٹ اسپتالوں میں تو حالات اور بھی بدتر ہیں ۔


یہاں اب مریضوں کو بھرتی کرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ ساتھ ہی آکسیجن اور وینٹیلیٹر کی کمی کی وجہ سے اسپتال مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کرنے کا تیمارداروں پر دباؤ بنا رہے ہیں ۔ تیماردار علاج اور آکسیجن کے لیے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کا چکّر لگا کر پریشان ہو رہے ہیں ۔ وہیں پرائیویٹ اسپتالوں میں بیڈ اور سہولیات کی کمی کے سبب اب سرکاری میڈیکل کالج پر مریضوں کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے ، جس کی وجہ سے یہاں کے حالات بھی قابو کے باہر ہوتے جا رہے ہیں ۔


حالانکہ میرٹھ کے لالا لاجپت رائے میڈیکل کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات بے قابو نہیں ہوئے ہیں ، صرف اسپتالوں پر مریضوں کا اضافی بوجھ بڑھنے سے تھوڑا افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 26, 2021 08:10 PM IST