உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قومی جھنڈے تیار کرنے والے کھادی آشرم پر کورونا کی مار، مانگ اور سپلائی میں غیر معمولی کمی

     گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا وبا کے بحران نے میرٹھ کے اس جھنڈا مینوفیکچرنگ یونٹ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں زیادہ تر وقت تک کام بند ہونے کے سبب 90 فیصد سے زیادہ کام ختم ہو چکا پیش ہے۔

    گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا وبا کے بحران نے میرٹھ کے اس جھنڈا مینوفیکچرنگ یونٹ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں زیادہ تر وقت تک کام بند ہونے کے سبب 90 فیصد سے زیادہ کام ختم ہو چکا پیش ہے۔

    گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا وبا کے بحران نے میرٹھ کے اس جھنڈا مینوفیکچرنگ یونٹ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں زیادہ تر وقت تک کام بند ہونے کے سبب 90 فیصد سے زیادہ کام ختم ہو چکا پیش ہے۔

    • Share this:
    یوم جمہوریہ یوم آزدی اور 2 اکتوبر جیسے مواقع پر سرکاری غیر سرکاری اور دیگر عمارتوں پر پھرایا جانے والا ترنگا کہاں اور کتنے اہتمام کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہ کم لوگ ہی جانتے ہیں اتر پردیش میں جھنڈا تیار کرنے والے تین مراکز ہیں جن میں ایک میرٹھ بھی ہے لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا وبا کے بحران نے میرٹھ کے اس جھنڈا مینوفیکچرنگ یونٹ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال میں زیادہ تر وقت تک کام بند ہونے کے سبب 90 فیصد سے زیادہ کام ختم ہو چکا پیش ہے۔
    یو پی میں میرٹھ کا کھادی آشرم قومی پرچم تیار کرنے کا لائسنسی سینٹر ہے 1920 میں میرٹھ میں کھادی آشرم کے قیام کے دس سال بعد سے ہی یہاں ترنگا بنانے کا کام جاری ہے کھادی آشرم میں کھادی کا تھان تیار کرنے کے بعد تھان کو رنگا جاتا ہے۔ اس کے بعد روایتی طریقہ سے اسکرین پرنٹ کرکے جھنڈے کو سکھایا جاتا ہے اور پھر سلائی کی جاتی ہے لیکن کورونا وبا کے قہر کے سبب اس سال جھنڈا تیار کرنے کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    جھنڈے کے لئے سوت کاتنے سے لیکر کپڑا تیار کرنے اسکرین پرنٹنگ اور سلائی کرنے والوں تک کا روزگار بری طرح متاثر ہے اور اس وجہ سے اس سال بہت کم تعداد میں جھنڈا تیار کیا جا سکا ہے۔ میرٹھ کے کھادی آشرم میں تیار ترنگے جھنڈے کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک سپلائی کیے جاتے ہیں جو خاص مواقع پر شان سے پھراے جاتے ہیں لیکن میرٹھ میں تیار ہونے والے یہ پرچم گزشتہ دو سال سے پروڈکشن کم ہونے سے یوم آزادی کے موقع پر کئی عمارتوں پر لہرائے نہیں جا سکیں گے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: