ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہوشیار! آکسیجن سلنڈر کی آن لائن ہوم ڈیلیوری کے نام پر یہاں جم کر ہورہی جعل سازی ، جانئے کس طرح بنایا جاتا ہے شکار

آکسیجن سلنڈر کی ہوم ڈیلیوری کے نام پر آن لائن ادائیگی کرنے کو کہا جاتا ہے اور ادائیگی ہو جانے کے بعد کوئی جواب نہیں دیا جاتا ہے ۔

  • Share this:
ہوشیار! آکسیجن سلنڈر کی آن لائن ہوم ڈیلیوری کے نام پر یہاں جم کر ہورہی جعل سازی ، جانئے کس طرح بنایا جاتا ہے شکار
میرٹھ : آکسیجن سلنڈر کی آن لائن ہوم ڈیلیوری کے نام پر جعل سازی ، جانئے کس طرح بنایا جاتا ہے شکار

میرٹھ : کورونا وبا کے قہر سے پیدا ہوئے حالات میں بھی جعلساز مجبور اور ضرورت مند لوگوں کو دھوکہ دے کر ٹھگنے سے باز نہیں آ رہے ہیں ۔ آکسیجن کی کمی سے پیدا ہوئے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی ایسے گینگ اس وقت سرگرم ہو گئے ہیں ، جو آکسیجن سلینڈر کی ہوم ڈیلیوری کے نام پر ضرورت مند مجبور افراد کو ٹھگ رہے ہیں ۔ ایسے ہی کئی معاملات میرٹھ میں بھی سامنے آرہے ہیں ۔ دہلی اور این سی آر علاقے میں اس وقت کئی ایسے گینگ سرگرم ہو گئے ہیں ، جو ضرورت مند اور مجبور افراد کا فائدہ اٹھا کر انہیں جعلسازی کا شکار بنا رہے ہیں ۔


مریضوں کے لیے آکسیجن حاصل کرنے کے لیے آکسیجن سپلائر اور فیکٹریوں کی خاک چھان کر پریشان ہو رہے تیمارداروں کو یہ جعلساز فیس بک اور وہاٹس ایپ کے ذریعہ اپنا شکار بنا رہے ہیں ۔ آکسیجن سلنڈر کی ہوم ڈیلیوری کے نام پر آن لائن ادائیگی کرنے کو کہا جاتا ہے اور ادائیگی ہو جانے کے بعد کوئی جواب نہیں دیا جاتا  ہے ۔ ایسا ہی ایک جعلسازی کا معاملہ میرٹھ کے سماجی خدمت گار انس سبزواری کے ساتھ بھی پیش آیا ، جس کی رپورٹ سائبر کرائم برانچ میں درج کرائی گئی ہے ۔ پولیس نے جب دیے گئے نمبر پر فون کیا تو بے خوف جعلسازوں نے پولیس انسپکٹر کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی ۔


آکسیجن سلنڈر کی ہوم ڈیلیوری کے نام آن لائن ٹھگی کا شکار ہو چکے انس سبزواری اب لوگوں کو بیدار کرکے اس طرح کی آن لائن جعلسازی سے بچنے کی اپیل کر رہے ہیں ۔ اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت سے پریشان تیماردار اپنے مریض کی جان بچانے کیلئے ہر قیمت پر آکسیجن سلنڈر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے حلات میں کئی افراد لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔


آن لائن جعلسازی کے اس طرح کے معاملات میں حالانکہ کارروائی کا ریکارڈ نا کے برابر ہے ، لیکن ان معاملات کی رپورٹ درج کرا کر دوسروں کو ٹھگی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 05, 2021 12:19 AM IST