உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ: مغربی یو پی کی سیاست میں پھر اٹھا علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کا مدعا 

    یو پی اسمبلی انتخابات دو ہزار بائیس سے قبل جہاں بی جے پی اور کانگرس سمیت سماجوادی اور بی ایس پی اس مطالبہ پر ابھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہیں مجلس سربراہ اسد الدین اویسی نے میرٹھ ریلی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مدعے کو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی۔

    یو پی اسمبلی انتخابات دو ہزار بائیس سے قبل جہاں بی جے پی اور کانگرس سمیت سماجوادی اور بی ایس پی اس مطالبہ پر ابھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہیں مجلس سربراہ اسد الدین اویسی نے میرٹھ ریلی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مدعے کو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی۔

    یو پی اسمبلی انتخابات دو ہزار بائیس سے قبل جہاں بی جے پی اور کانگرس سمیت سماجوادی اور بی ایس پی اس مطالبہ پر ابھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہیں مجلس سربراہ اسد الدین اویسی نے میرٹھ ریلی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مدعے کو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی۔

    • Share this:
    مغربی یو پی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مطالبے کو لیکر وکلاء کا احتجاجی گزشتہ 40 برسوں سے جاری ہے لیکن ہائی کورٹ بینچ کے مطالبے کو پورا کرنے کی یقین دھانی کرانے کے باوجود سیاسی جماعتیں آج تک اس معاملے کو حل کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ ایسے میں یو پی اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بار پھر یہ مدعا نہ صرف وکلاء کے نزدیک بحث کا موضوع بن گیا ہے بلکہ ایم آی ایم جیسی بی جے پی مخالف سیاسی جماعتیں مغربی یو پی میں اپنی سیاسی ریلیوں میں ہائی کورٹ بینچ کے مدعے کو اٹھا کر وکلاء برادری اور عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    مغربی اُتر پردیش کے بائیس اضلاع کے وکلاء ہائی کورٹ بینچ سنگھرش سمیتی کے بینر تلے علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مطالبے کو لیکر گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل احتجاجی مظاہروں اسٹرائیک اور آندولن کے ذریعے حکومتوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن سبھی سیاسی جماعتوں نے الیکشن سے قبل انکے مطالبات کی تائید تو کی لیکن حکومت میں آنے کے بعد کوئی پیش رفت نہیں کی۔

    یو پی اسمبلی انتخابات دو ہزار بائیس سے قبل جہاں بی جے پی اور کانگرس سمیت سماجوادی اور بی ایس پی اس مطالبہ پر ابھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہیں مجلس سربراہ اسد الدین اویسی نے میرٹھ ریلی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مدعے کو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی۔

    وہیں مغربی یو پی وکلاء برادری کے زمہ داران اور ہائی کورٹ سنگھرش سمیتی کے عہدے داران کا کہنا ہے کہ سبھی سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مطالبے پر زبانی جمع خرچ کرتی رہی ہیں لیکن مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کسی نے نہیں کی ۔تاہم اب الیکشن سے قبل مغربی یو پی کے بائیس اضلاع کے وکلاء ایک بار پھر اس بات پر متحد ہے کہ علیحدہ ہائی کورٹ بینچ نہیں ووٹ نہیں مغربی یو پی میں علیحدہ ہائی کورٹ بینچ کے مطالبے کو لیکر وکلاء برادری کا لمبے وقت سے جاری رہنے کے باوجود ایک عوامی تحریک نہیں بن سکا۔ یہی وجہ ہے یہ مدعا سیاسی جماعتوں کے لیے بڑا سیاسی مدعا کبھی نہیں رہا ہے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: