ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ: کیا مذہبی منافرت کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ بن رہا ہے یو پی حکومت کا مبینہ لو جہاد قانون 

یو پی میں لو جہاد کے نام پر جبراً مذہب تبدیلی کے خلاف لائے گئے قانون کے تحت درج ہونے والے معاملوں میں تیزی آئی ہے۔

  • Share this:
میرٹھ: کیا مذہبی منافرت کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ بن رہا ہے یو پی حکومت کا مبینہ لو جہاد قانون 
یو پی میں لو جہاد کے نام پر جبراً مذہب تبدیلی کے خلاف لائے گئے قانون کے تحت درج ہونے والے معاملوں میں تیزی آئی ہے۔

یو پی میں لو جہاد کے نام پر جبراً مذہب تبدیلی کے خلاف لائے گئے قانون کے تحت درج ہونے والے معاملوں میں تیزی آئی ہے۔ قانون کے جانكاروں اور سماجی ملّی تنظیموں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ہندو مذہبی تنظیموں کی غیر ضروری مداخلت اور پولیس پر دباؤ کی وجہ سے آپسی رضامندی کے رشتوں کے معاملوں میں بھی اس ایکٹ کی دفعات شامل کرکے لڑکے اور اس کے گھر والوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے۔ جانكاروں کا کہنا ہے کہ غیر ضروری طور جبراً تبدیلی مذہب قانون کے تحت معاملے درج کیے جانے سے سماج میں آپسی دوری اور نفرت کو بڑھاوا ملےگا۔ صوبے اُتر پردیش میں 24 نومبر سے لاگو ہوئے لو جہاد مخالف قانون کے بعد 29 نومبر کو بریلی میں اس قانون کے تحت پہلا معاملہ درج ہوا اور اسکے بعد مختلف اضلاع میں اب تک درجنوں معاملے درج ہو چکے ہیں۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کے سبھی معاملوں میں لٹکا مسلم اور لڑکی ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی رہی ہے اور زیادہ تر معاملوں میں اس قانون کے تحت ایف آئی آر ہندو مذہبی تنظیموں کی غیر ضروری مداخلت اور پولیس پر دباؤ بنا کر درج کرائی گئی ہے گزشتہ روز میرٹھ کے نوچندی تھانے میں درج کیا گیا معاملہ اسی کی ایک مثال ہے اس سے قبل میرٹھ کے ہی ایک معاملے میں تو شادی شدہ جوڑے اور لیو ان تعلقات میں ساتھ رہ رہے بالغ جوڑے کو بجرنگ دل جیسی ہندو تنظیموں سے جان کا خطرہ ہونے پر پولیس سے حفاظت کی گہار لگانی پڑی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا قانون کے جانکاری مانتے ہیں کہ لو جہاد کی بنیاد پر لائے گئے اس قانون کا سہارا لیکر اب اس طرح کے جوڑوں کو نشانہ بنانے کی شروعات ہو چکی ہے جو سماج میں مذہبی منافرت کو اور بڑھانے کا کام کرے گی۔

جمعیت علماء ہند کے مقامی زمہ داران نے اب اس طرح کے معاملوں میں متاثر خاندان کی ہر ممکن مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے ایکٹ میں جبراً تبدیلی مذہب کی دفعات کے تحت اب تک یو پی میں درج ہوئے معاملوں میں عموماً لٹکا مسلم اور لڑکی غیر مذہب کی رہی ہے اور اس وجہ سے اس ایکٹ کے ایک طرفہ استعمال کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو سماج میں پیدا ہو رہی کھائی کو اور بڑھانے کا کام کرے گا۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 05, 2021 02:21 PM IST