ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : یومیہ مزدوروں اور کاریگروں کی وطن واپسی سے پاور لوم کارخانوں میں لگے تالے ، بدحالی کی مار جھیل رہی کپڑا صنعت

اقتصادی مندی کے بعد سے ہی برے دور سے گزر رہی میرٹھ کی کپڑا صنعت لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بند ہونے سے بربادی کی کگار پر پہنچ چکی ہے۔خاص طور پر میرٹھ کی کپڑا صنعت کی پہچان پاور لوم کارخانوں کی لاک ڈاؤن کے دوران کمر ٹوٹ چکی ہے۔ میرٹھ کے پاور لوم کارخانوں میں کام کرنے والے غیر مقامی کاریگروں اور بنکروں کے اپنے وطن لوٹ جانے کے بعد اب یہ کارخانے گزشتہ ڈھائی ماہ سے مکمّل طور پر بند ہیں اور لاک ڈاؤن

  • Share this:
میرٹھ : یومیہ مزدوروں اور کاریگروں کی وطن واپسی سے پاور لوم کارخانوں میں لگے تالے ، بدحالی کی مار جھیل رہی کپڑا صنعت
اقتصادی مندی کے بعد سے ہی برے دور سے گزر رہی میرٹھ کی کپڑا صنعت لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بند ہونے سے بربادی کی کگار پر پہنچ چکی ہے۔خاص طور پر میرٹھ کی کپڑا صنعت کی پہچان پاور لوم کارخانوں کی لاک ڈاؤن کے دوران کمر ٹوٹ چکی ہے۔ میرٹھ کے پاور لوم کارخانوں میں کام کرنے والے غیر مقامی کاریگروں اور بنکروں کے اپنے وطن لوٹ جانے کے بعد اب یہ کارخانے گزشتہ ڈھائی ماہ سے مکمّل طور پر بند ہیں اور لاک ڈاؤن

اقتصادی مندی کے بعد سے ہی برے دور سے گزر رہی میرٹھ کی کپڑا صنعت لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بند ہونے سے بربادی کی کگار پر پہنچ چکی ہے۔خاص طور پر میرٹھ کی کپڑا صنعت کی پہچان پاور لوم کارخانوں کی لاک ڈاؤن کے دوران کمر ٹوٹ چکی ہے۔ میرٹھ کے پاور لوم کارخانوں میں کام کرنے والے غیر مقامی کاریگروں اور بنکروں کے اپنے وطن لوٹ جانے کے بعد اب یہ کارخانے گزشتہ ڈھائی ماہ سے مکمّل طور پر بند ہیں اور لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی ابھی ان پاور لوم کارخانوں کے چلنے کی کوئی اُمید نہیں ہے


میرٹھ بنکر ایسوسیشن کے ممبر عادل انصاری کے مطابق میرٹھ کے بنکر پہلے ہی فلیٹ بجلی ریٹ کے ختم ہونے سے پریشانی میں مبتلا تھے اور اقتصادی مندی کے حالات میں کاروبار کو بچانے کی جدو جہد کر رہے تھے ایسے میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے حالات نے پاور لوم کپڑا صنعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، گزشتہ ڈھائی ماہ سے کارخانے بند ہیں پریشان غیر مقامی کاریگر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں اور ابھی انکے واپس لوٹے کر آنے کی اُمید بھی بہت کم ہے ، عادل مانتے ہیں ابھی کم سے کم چار سے چھ ماہ تک ان یومیہ کاریگروں اور مزدوروں کے واپس لوٹنے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔

عادل انصاری کے مطابق آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن ختم ہونے اور کاروباری سرگرمیوں کے شروع ہو جانے کے باوجود میرٹھ کے پاور لوم کارخانے بغیر کامگار وں کے نہیں چل سکتے اور اگر مقامی کامگار وں کے ذریعہ تھوڑا بہت کام کی شروعات کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو کچا مال دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی بازار میں مال کی ابھی کوئی ڈیمانڈ ہے ، ایسے میں ضروری ہے کہ اس صنعت کو بچانے کے لیے  بنکروں کے لیے  بھی کسی راحت پیکج کا اعلان کیا جائے۔

First published: Jun 05, 2020 01:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading