ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ : یوپی میں مدارس کے اساتذہ کو مکمل تنخواہ کا گزشتہ پانچ سالوں سے انتظار 

مدارس میں ٹیکنیکل اور جدید مضامین کی تعلیم دینے والے ان اساتذہ کو ماہانہ اجرت کے طور پر صوبائی حکومت کے حصّے سے تین ہزار اور مرکزی حکومت سے ١٢ ہزار روپئے ملتے ہیں لیکن یو پی کے تقریباً ٢٥ ہزار اساتذہ کو گزشتہ چار سال سے مرکز کی طرف سے نہیں ملا ہے۔

  • Share this:
میرٹھ : یوپی میں مدارس کے اساتذہ کو مکمل تنخواہ کا گزشتہ پانچ سالوں سے انتظار 
میرٹھ : یوپی میں مدارس کے اساتذہ کو مکمل تنخواہ کا گزشتہ پانچ سالوں سے انتظار 

میرٹھ ۔ اترپردیش میں مدرسہ جدیدکاری اسکیم کے تحت مدرسہ بورڈ سے ملحق مدارس میں اساتذہ کی تقرری عمل میں آئی تھی۔ مدارس میں ٹیکنیکل اور جدید مضامین کی تعلیم دینے والے ان اساتذہ کو ماہانہ اجرت کے طور پر صوبائی حکومت کے حصّے سے تین ہزار اور مرکزی حکومت سے ١٢ ہزار روپئے ملتے ہیں لیکن یو پی کے تقریباً ٢٥ ہزار اساتذہ کو گزشتہ چار سال سے مرکز کی طرف سے نہیں ملا ہے۔ تین ہزار روپے کی اجرت پر یہ اساتذہ مدارس میں تعلیمی خدمات انجام دینے سے لیکر بورڈ امتحان میں ڈیوٹی اسٹاف کی حیثیت سے اپنی خدمات بھی انجام دیتے رہے اور اپنے حق کے لئے آواز بھی اٹھاتے رہے لیکن نہ تو انہیں تنخواہ کا حصّہ حاصل ہوا  اور نہ ہی ڈیوٹی کی اجرت۔


مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت تقرر ہونے والے یہ اساتذہ مرکزی حکومت کی عدم توجہی سے سخت نالاں ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک تو ان کی تنخواہیں پہلے ہی کم ہیں ایسے میں پوری تنخواہ کا نہ ملنا اساتذہ کا استحصال ہے۔ آج کی مہنگائی کے اس زمانے میں تین ہزار کی اجرت میں گھر چلانا اور ضرورتوں کو پورا کر پانا بہت مشکل ہے۔


فائل فوٹو
علامتی تصویر


مدرسہ امتحان مراکز پر ان دنوں ڈیوٹی اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہیں مدرسہ ٹیچروں کے مطابق آج تک ان کو امتحان ڈیوٹی کی بھی اجرت نہیں دی گئی۔ مدرسہ بورڈ اور محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کی جانب سے ہر سال ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے اور ڈیوٹی کی اجرت کا وعدہ بھی کیا جاتا ہے لیکن آج تک ڈیوٹی کا پیسہ نہیں دیا گیا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو لیکر وہ کئی مرتبہ دھرنا بھی دے چکے اور مظاہرہ بھی کر چکے ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔
First published: Feb 28, 2020 05:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading